Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
336 - 520
سے آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: آپ سے شراب اور جوئے کے متعلق سوال کرتے ہیں۔ تم فرمادو: ان دونوں میں کبیرہ گناہ ہے اور لوگوں کیلئے کچھ دنیوی منافع بھی ہیں اور ان کا گناہ ان کے نفع سے زیادہ بڑا ہے۔آپ سے سوال کرتے ہیں کہ (اللہ کی راہ میں ) کیا خرچ کریں ؟ تم فرماؤ: جو زائد بچے۔ اسی طرح اللہ تم سے آیتیں بیان فرماتا ہے تاکہ تم غوروفکر کرو۔
{یَسْـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیۡسِرِ: آپ سے شراب اور جوئے کے متعلق سوال کرتے ہیں۔}یاد رہے کہ اِس آیت میں شراب کو حرام قرار نہیں دیا گیا بلکہ حرمت کی آیات سورہ ٔ مائدہ میں بعد میں نازل ہوئیں اور 3ہجری میں غزوئہ احزاب سے چند روز بعد شراب حرام کی گئی۔ 
شراب اور جوئے کی مذمت:
	اس آیت میں شراب اور جوئے کی مذمت بیان کی گئی ہے کہ جو ئے اور شراب کا گناہ اس کے نفع سے زیادہ ہے، نفع تو یہی ہے کہ شراب سے کچھ سُرور پیدا ہوتا ہے یا اس کی خریدو فروخت سے تجارتی فائدہ ہوتا ہے اور جوئے میں یہ فائدہ ہے کہ اس سے کبھی مفت کا مال ہاتھ آجاتا ہے لیکن شراب اور جوئے کی وجہ سے ہونے والے گناہوں اورفسادات کا کیا شمار۔شراب سے عقل زائل ہوجاتی ہے، غیرت و حَمِیَّت کا جنازہ نکل جاتا ہے، ماں ، بہن، بیٹی کی تمیز ختم ہوجاتی ہے، عبادت سے دل اکتا جاتا ہے، عبادت کی لذت دل سے نکل جاتی ہے۔ جوئے کی وجہ سے لوگوں سے دشمنیاں پیدا ہوجاتی ہیں ، آدمی سب کی نظر میں ذلیل و خوار ہوجاتا ہے، جوئے باز، سٹے باز کے نام سے بدنام ہوتا ہے، کبھی کبھار اپنا سب مال و اسباب جوئے میں ہار دیتا ہے، زندگی تباہ و برباد ہوجاتی ہے، محنت سے جی چرانا شروع ہوجاتا ہے اور مفت خورہ بننے کی عادت پڑ جاتی ہے وغیرہا۔ ایک روایت میں ہے کہ جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَام نے حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ اللہ  تعالیٰ کو جعفرطیار کی چار خصلتیں پسند ہیں۔ سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے حضرت جعفر طیار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے دریافت فرمایا، انہوں نے عرض کی کہ ایک خصلت تویہ ہے کہ میں نے کبھی شراب نہیں پی، یعنی حرمت کا حکم نازل ہونے سے پہلے بھی کبھی شراب نہیں پی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ میں جانتا تھا کہ اس سے عقل زائل ہوتی ہے ا ور میں چاہتا تھا کہ عقل اور بھی تیز ہو۔ دوسری خصلت یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں بھی میں نے کبھی بت کی پوجا نہیں کی کیونکہ
میں جانتا تھا کہ یہ پتھر ہے نہ نفع دے سکے نہ نقصان۔ تیسری خصلت یہ ہے کہ میں کبھی زنا میں مبتلا نہ ہوا کیونکہ میں اس کو بے غیرتی سمجھتا تھا۔ چوتھی خصلت یہ تھی کہ میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا کیونکہ میں اس کو کمینہ پن خیال کرتاتھا۔