سے اسلام دشمن لوگ اس طرح کی آیات سے غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ایسے لوگوں کی مَکاریوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔
{وَلَا تُقٰتِلُوۡہُمْ عِنۡدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ: اور مسجد حرام کے پاس ان سے نہ لڑو۔} مسجد ِ حرام شریف کے ارد گرد کئی کلومیٹر کا علاقہ حرم کہلاتا ہے۔ حرم کی حدود میں مسلمانوں کو لڑنے سے منع کردیا گیاکیونکہ یہ حرم کی حرمت کے خلاف ہے لیکن اگر کفار ہی وہاں مسلمانوں سے جنگ کی ابتداء کریں تو انہیں جواب دینے کیلئے وہاں پر بھی ان سے لڑنے اور انہیں قتل کرنے کی اجازت ہے ۔البتہ اگر وہ کفر سے باز آجائیں تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے انہیں معاف فرمادے گا کہ اسلام تمام گناہوں کو ختم کردیتا ہے۔
وَقٰتِلُوۡہُمْ حَتّٰی لَا تَکُوۡنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوۡنَ الدِّیۡنُ لِلہِؕ فَاِنِ انۡتَہَوۡا فَلَا عُدْوٰنَ اِلَّا عَلَی الظّٰلِمِیۡنَ﴿۱۹۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور ان سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فتنہ نہ رہے اور ایک اللہ کی پوجا ہو پھر اگر وہ باز آئیں تو زیادتی نہیں مگر ظالموں پر۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ان سے لڑتے رہو یہاں تک کہ کوئی فتنہ نہ رہے اورعبادت اللہ کے لئے ہوجائے پھر اگر وہ باز آجائیں تو صرف ظالموں پر سختی کی سزا باقی رہ جاتی ہے۔
{حَتّٰی لَا تَکُوۡنَ فِتْنَۃٌ: یہاں تک کہ فتنہ نہ رہے۔} عرب کے کافروں کے متعلق فرمایا گیا کہ ان سے تب تک لڑو کہ ان کا فتنہ یعنی شرک ختم ہوجائے اور ان کا دین بھی دینِ اسلام ہوجائے اور سرزمینِ عرب پر صرف ایک اللہ کی عبادت ہو۔ لہٰذا اگر وہ کفر و باطل پرستی سے باز آجاتے ہیں تو پھر ان پر کوئی سختی نہیں کی جائے گی۔
اَلشَّہۡرُ الْحَرَامُ بِالشَّہۡرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمٰتُ قِصَاصٌؕ فَمَنِ اعْتَدٰی عَلَیۡکُمْ فَاعْتَدُوۡا عَلَیۡہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰی عَلَیۡکُمْ۪ وَاتَّقُوا اللہَ وَ اعْلَمُوۡۤا اَنَّ اللہَ مَعَ الْمُتَّقِیۡنَ﴿۱۹۴﴾