Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
308 - 520
وَاقْتُلُوۡہُمْ حَیۡثُ ثَقِفْتُمُوۡہُمْ وَاَخْرِجُوۡہُمۡ مِّنْ حَیۡثُ اَخْرَجُوۡکُمْ وَالْفِتْنَۃُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِۚ وَلَا تُقٰتِلُوۡہُمْ عِنۡدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰی یُقٰتِلُوۡکُمْ فِیۡہِۚ فَاِنۡ قٰتَلُوۡکُمْ فَاقْتُلُوۡہُمْؕ کَذٰلِکَ جَزَآءُ الْکٰفِرِیۡنَ﴿۱۹۱﴾ فَاِنِ انۡتَہَوْا فَاِنَّ اللہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ﴿۱۹۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور کافروں کو جہاں پاؤ مارو اور انہیں نکال دو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکا لا تھا اور ان کا فساد تو قتل سے بھی سخت ہے اور مسجد حرام کے پاس ان سے نہ لڑو جب تک وہ تم سے وہاں نہ لڑیں اور اگر تم سے لڑیں تو انہیں قتل کرو کافروں کی یہی سزا ہے۔پھر اگر وہ باز رہیں تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور (دورانِ جہاد) کافروں کو جہاں پاؤ قتل کرو اور انہیں وہاں سے نکال دو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکا لا تھا اور فتنہ قتل سے زیادہ شدید ہوتا ہے اور مسجد حرام کے پاس ان سے نہ لڑو جب تک وہ تم سے وہاں نہ لڑیں اور اگر وہ تم سے لڑیں تو انہیں قتل کرو۔ کافروں کی یہی سزا ہے۔پھر اگر وہ باز آجائیں تو بیشک اللہ بخشنے والا، مہربان ہے۔
{وَاقْتُلُوۡہُمْ: اور انہیں قتل کرو۔} آیت مبارکہ میں اوپر بیان کئے گئے سِیاق و سِباق میں فرمایا گیا کہ چونکہ کافروں نے تمہیں مکہ مکرمہ سے بے دخل کیا تھا اور اب بھی تمہارے ساتھ آمادۂ قتال ہیں تو تمہیں دورانِ جہاد ان سے لڑنے ، انہیں قتل کرنے اور انہیں مکہ مکرمہ سے نکالنے کی اجازت ہے جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا تھا۔چنانچہ فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول نہ کرنے والوں کو مکہ مکرمہ سے نکال دیا گیا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ ان کے قتل کا حکم ان کے جرم سے زیادہ بڑا نہیں کیونکہ وہ لوگ فتنہ برپا کرنے والے ہیں اور ان کا فتنہ شرک ہے یا مسلمانوں کو مکہ مکرمہ سے نکالنا(تفسیرات احمدیہ، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۹۱، ص۸۱)
	تو ان کا فتنہ ان کو قتل کرنے سے بھی بڑھ کر ہے۔ یہاں یہ حکم نہیں دیا جارہا ہے کہ کافروں کو قتل کرنے میں لگے رہو، امن ہو یا جنگ، صلح ہو یا لڑائی ہر حال میں انہیں قتل کرو بلکہ یہاں صرف دورانِ جہاد قتل کرنے کا حکم ہے۔ بہت