یہ بھی یاد رہے کہ اگر فدیہ دینے کے بعد روزہ رکھنے کی قوت آگئی تو روزہ رکھنا لازم ہوجائے گا۔
(عالمگیری، کتاب الصوم، الباب الخامس، ۱/۲۰۷)
مسئلہ: اگر کوئی شیخ فانی غریب و نادار ہواور فدیہ دینے کی قدرت بھی نہ رکھتا ہو تو وہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا رہے۔
(درّ مختار، کتاب الصوم، فصل فی العوارض المبیحۃ لعدم الصوم،۳/۴۷۲)
{فَمَنۡ تَطَوَّعَ خَیۡرًا فَہُوَ خَیۡرٌ لَّہٗؕ:پھر جو اپنی طرف سے نیکی زیادہ کرے تو وہ اس کے لئے بہتر ہے۔}فدیہ کی مقدار تو مخصوص ہے لیکن اگر کوئی زیادہ دینا چاہے تو بخوشی دے سکتا ہے۔ جتنا زیادہ دے گا اتنا ہی ثواب بڑھتا جائے گا۔ جیسے بعض صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمنے نماز کے خشوع و خضوع میں فرق پڑنے پر پورا باغ صدقہ کردیا۔یہاں یہ مسئلہ بھی یاد رہے کہ مسافر و مریض کو روزہ نہ رکھنے کی اگرچہ اجازت ہے لیکن زیادہ بہتر و افضل روزہ رکھنا ہی ہے جیساکہ آیت کے آخر میں فرمایا:
وَ اَنۡ تَصُوۡمُوۡا خَیۡرٌ لَّکُمْ ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تمہارا روزہ رکھنا تمہارے لئے بہتر ہے۔
روزے کے طبی فوائد:
طبی لحاظ سے روزوں کے بے شمار فوائد ہیں ،ان میں سے6 فوائد درج ذیل ہیں :
(1)…روزہ رکھنے سے معدے کی تکالیف اور ا س کی بیماریاں ٹھیک ہو جاتی ہیں اور نظام ہضم بہتر ہو جاتا ہے۔
(2)…روزہ شوگر لیول،کولیسٹرول اوربلڈ پریشر میں اعتدال لاتا ہے اور ا س کی وجہ سے دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ نہیں رہتا۔
(3)…روزے کے دوران خون کی مقدار میں کمی ہو جاتی ہے اور ا س کی وجہ سے دل کوانتہائی فائدہ مند آرام پہنچتا ہے۔
(4)…روزے سے جسمانی کھچاؤ، ذہنی تناؤ ، ڈپریشن اور نفسیاتی امراض کا خاتمہ ہوتا ہے ۔
(5)…روزہ رکھنے سے موٹاپے میں کمی واقع ہوتی اور اضافی چربی ختم ہو جاتی ہے۔
(6)…روزہ رکھنے سے بے اولادخواتین کے ہاں اولاد ہونے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔
روزے کی برکت سے شفا ملی:
اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :’’ابھی چند سال ہوئے ماہِ رجب میں حضرت والد ماجد قَدَّسَ اللہُ سِرَّہُ الشَّرِیْف خواب میں تشریف لائے اور مجھ سے فرمایا :اب کی رمضان میں مرض شدید ہو گا،روزہ نہ چھوڑنا۔ ویسا ہی ہوا ا ور ہر چند طبیب وغیرہ نے کہا (مگر) میں نے بِحَمْدِاللہِ تَعَالٰیروزہ نہ چھوڑا اور اسی کی برکت نے