{فَمَنۡ کَانَ مِنۡکُمۡ مَّرِیۡضًا: تو تم میں جو کوئی بیمار ہو۔} حیض ونفاس والی عورت کو تو روزہ رکھنے کی اجازت ہی نہیں وہ تو بعد میں قضا کرے گی ۔ اس کے علاوہ بھی چند افراد ہیں جنہیں روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے۔ آیت میں بطورِ خاص بیمار اور مسافر کو رخصت دی گئی ہے لیکن یہ یاد رہے کہ سفر سے مراد تین دن کی مسافت یعنی ساڑھے ستاون میل یعنی بانوے کلو میٹر ہے۔ اس سے کم سفر ہے تو روزہ چھوڑنے کی اجازت نہیں۔(درّ مختار مع رد المحتار، کتاب الصوم، فصل فی العوارض المبیحۃ لعدم الصوم،۳/۴۶۲-۴۶۳)
مریض کو بھی رخصت ہے جبکہ اسے روزہ رکھنے سے مرض کی زیادتی یا ہلاک ہونے کا اندیشہ ہوتو یہ روزہ چھوڑ دے اور بعد میں ممنوع ایام کے علاوہ اوردنوں میں روزہ رکھ لے۔
البتہ یہ یاد رہے کہ مریض کو محض زیادہ بیماری کے یا ہلاکت کے صرف وہم کی بنا پر روزہ چھوڑنا جائز نہیں بلکہ ضروری ہے کہ کسی دلیل یا سابقہ تجربہ یا کسی ایسے طبیب کے کہنے سے غالب گمان حاصل ہو جو طبیب ظاہری طور پر فاسق نہ ہو۔
(رد المحتار، کتاب الصوم، فصل فی العوارض المبیحۃ لعدم الصوم، ۳/۴۶۴)
روزے کی رخصت کے چند اہم مسائل:
(1)…جو فی الحال بیمار نہ ہو لیکن مسلمان ماہرطبیب یہ کہے کہ وہ روزے رکھنے سے بیمار ہوجائے گا وہ بھی روزہ چھوڑ سکتا ہے۔
(2) …حاملہ یا دودھ پلانے والی عورت کو اگر روزہ رکھنے سے اپنی یا بچے کی جان کا یا اس کے بیمار ہوجانے کا اندیشہ ہو تو اس کوبھی افطار جائز ہے۔
(3)…جس مسافر نے طلوعِ فجر سے قبل سفر شروع کیا اس کو تو روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے لیکن جس نے طلوعِ فجر کے بعد سفر کیا اس کو اُس دن کا روزہ چھوڑنے کی اجازت نہیں۔ (بہار شریعت، حصہ پنجم، ۱/۱۰۰۳)
{فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیۡنٍ: ایک مسکین کا فدیہ۔} شیخ فانی یعنی وہ بوڑھا جس کی عمر ایسی ہو گئی کہ اب روز بروز کمزور ہی ہوتا جائے گا،جب وہ روزہ رکھنے سے عاجز ہو یعنی نہ اب رکھ سکتا ہے اورنہ آئندہ ہی اس میں اتنی طاقت آنے کی امید ہو کہ روزہ رکھ سکے‘‘ اس کے لیے جائز ہے کہ روزہ نہ رکھے اور ہر روزے کے بدلے فدیے کے طور پر نصف صاع یعنی اسی گرام کم دو کلو گندم یا اس کا آٹا دیدے یا اس کی قیمت دیدے اور اگر فدیہ جَو سے دینا ہو تو گندم سے دُگنا دینا ہوگا۔
(درّ مختار مع رد المحتار، کتاب الصوم، فصل فی العوارض المبیحۃ لعدم الصوم،۳/۴۷۱-۴۷۲)