Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
289 - 520
(2) …اگر مال پر صلح کریں تو قصاص ساقط ہوجاتا ہے اور مال واجب ہوتا ہے۔(تفسیرات احمدیہ، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۷۸، ص۵۲)
	مزید تفصیلات کیلئے بہارِ شریعت حصہ 17کا مطالعہ فرمائیں۔ 
{فَمَنِ اعْتَدٰی بَعْدَ ذٰلِکَ: تو جو اس کے بعد زیادتی کرے۔}یعنی دستورِ جاہلیت کے مطابق غیر ِقاتل کو قتل کرے یادِیَت قبول کرنے اور معاف کرنے کے بعد قتل کرے تو اس کیلئے دردناک عذاب ہے۔(تفسیر مدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۷۸، ص۹۵)
وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یّٰۤاُولِی الۡاَلْبٰبِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوۡنَ﴿۱۷۹﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور خون کا بدلہ لینے میں تمہاری زندگی ہے اے عقل مندو کہ تم کہیں بچو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:اوراے عقل مندو! خون کا بدلہ لینے میں تمہاری زندگی ہے تاکہ تم بچو۔
{وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ: خون کا بدلہ لینے میں تمہاری زندگی ہے۔} قصاص میں قوموں اور لوگوں کی حیات بیان کی گئی ہے۔ جس قوم میں ظالم کی پردہ پوشی اور حمایت کی جائے وہ تباہ و برباد ہوجاتی ہے اور جہاں ظالم اور مجرم کو سزا دی جائے وہاں جرائم خود بخود کم ہوجاتے ہیں۔ ایک محلے سے لے کر عالمی سطح تک کے مجرموں میں یہی ایک فلسفہ کار فرما ہے۔ آپ غور کریں تو معلوم ہو جائے گا کہ جن ممالک میں جرائم پر سخت سزائیں نافذ ہیں وہاں کے جرائم کی تعداد اور جہاں مجرموں کو سزائیں نہیں دی جاتیں وہاں جرائم کی تعداد کتنی ہے۔
کُتِبَ عَلَیۡکُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ اِنۡ تَرَکَ خَیۡرَۨاۚۖ الْوَصِیَّۃُ لِلْوٰلِدَیۡنِ وَالۡاَقْرَبِیۡنَ بِالْمَعْرُوۡفِۚ حَقًّا عَلَی الْمُتَّقِیۡنَ﴿۱۸۰﴾ؕ
 ترجمۂکنزالایمان: تم پر فرض ہوا کہ جب تم میں کسی کو موت آئے اگر کچھ مال چھوڑے تو وصیت کرجائے اپنے ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں کے لئے موافق دستور یہ واجب ہے پرہیزگاروں پر۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم پر فرض کیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت آئے (تو) اگر وہ کچھ مال چھوڑے تو اپنے ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں کے لئے اچھے طریقے سے وصیت کرجائے۔ یہ پرہیزگاروں پر واجب ہے ۔