وَسَلَّمَ کی خدمت میں پیش ہوا تو یہ آیت نازل ہوئی اور عدل و مساوات کا حکم دیا گیا ۔ا س پر وہ لوگ راضی ہوئے۔
(جمل، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۷۸،۱/۲۱۳)
قرآن کریم میں قصاص کا مسئلہ کئی آیتوں میں بیان ہوا ہے، اس آیت میں قصاص اور معافی دونوں مسئلے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے اس احسان کا بیان ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو قصاص اورمعافی میں اختیار دیا ہے۔اس آیت ِ مبارکہ اور اس کے شانِ نزول سے اسلام کی نظر میں خونِ انسان کی حرمت کا بھی علم ہوتا ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہوا کہ قتلِ عمد کی صورت میں قاتل پر قصاص واجب ہے خواہ اس نے آزاد کو قتل کیا ہو یا غلام کو، مرد کو قتل کیا ہو یا عورت کو کیونکہ آیت میں ’’قَتْلٰی‘‘ کا لفظ جو قتیل کی جمع ہے وہ سب کو شامل ہے۔ البتہ کچھ افراد اس حکم سے مستثنیٰ ہیں جن کی تفصیل فقہی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔ نیز اس آیت میں یہ بھی بتایا گیا کہ جو قتل کرے گا وہی قتل کیا جائے گاخواہ آزاد ہو یا غلام ،مرد ہو یا عورت اور زمانۂ جاہلیت کی طرح نہیں کیا جائے گا ، ان میں رائج تھا کہ آزادوں میں لڑائی ہوتی تو وہ ایک کے بدلے دو کو قتل کرتے، غلاموں میں ہوتی تو بجائے غلام کے آزاد کو مارتے، عورتوں میں ہوتی تو عورت کے بدلے مرد کو قتل کرتے اور محض قاتل کے قتل پر اکتفا نہ کرتے بلکہ بعض اوقات بہت بڑی تعداد میں قتل و غارت گری کا سلسلہ جاری رکھتے۔ ان سب چیزوں سے منع کردیا گیا ۔
{فَمَنْ عُفِیَ لَہٗ مِنْ اَخِیۡہِ شَیْءٌ: تو جس کے لئے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی دیدی جائے۔} اس کا معنی یہ ہے کہ جس قاتل کو مقتول کے اولیاء کچھ معاف کریں جیسے مال کے بدلے معاف کرنے کا کہیں تو یہاں قاتل اور اولیائِ مقتول دونوں کو اچھا طریقہ اختیار کرنے کا فرمایا گیا ہے۔ مقتول کے اولیاء سے فرمایا کہ اچھے انداز میں مطالبہ کریں ، شدت و سختی نہ کریں اور قاتل سے فرمایا کہ وہ خون بہاکی ادائیگی میں اچھا طریقہ اختیار کرے ۔ آیت میں قاتل اور مقتول کے وارث کو بھائی کہا گیا اس سے معلوم ہوا کہ قتل اگرچہ بڑاگناہ ہے مگر اس سے ایمانی بھائی چارہ ختم نہیں ہوجاتا۔ اس میں خارجیوں کے مذہب کی تردید ہے جو کبیرہ گناہ کے مرتکب کو کافر کہتے ہیں۔اہلسنّت کا عقیدہ یہ ہے کہ گناہ ِ کبیرہ کا مرتکب فاسق ہوتا ہے کافر نہیں۔
قصاص سے متعلق دواہم مسائل:
(1)… مقتول کے ولی کو اختیار ہے کہ خواہ قاتل کو بغیر عوض معاف کردے یامال پر صلح کرے اوراگر وہ اس پر راضی نہ ہو اور قصاص چاہے تو قصاص ہی فرض رہے گا۔ (جمل، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۷۸،۱/۲۱۳)