فِی الرِّقَابِۚ وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتَی الزَّکٰوۃَۚ وَالْمُوۡفُوۡنَ بِعَہۡدِہِمْ اِذَا عٰہَدُوۡاۚ وَالصّٰبِرِیۡنَ فِی الْبَاۡسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَحِیۡنَ الْبَاۡسِؕ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡاؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُتَّقُوۡنَ﴿۱۷۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: کچھ اصل نیکی یہ نہیں کہ منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرو ہاں اصل نیکی یہ کہ ایمان لائے اللہ اور قیامت اور فرشتوں اور کتاب اور پیغمبروں پر اور اللہ کی محبت میں اپنا عزیز مال دے رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور راہ گیر اور سائلوں کو اور گردنیں چھوڑانے میں اور نماز قائم رکھے اور زکوٰۃ دے اور اپنا قول پورا کرنے والے جب عہد کریں اور صبر والے مصیبت اور سختی میں اور جہاد کے وقت یہی ہیں جنہوں نے اپنی بات سچی کی اور یہی پرہیزگار ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اصل نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرلوبلکہ اصلی نیک وہ ہے جو اللہ اور قیامت اور فرشتوں اور کتاب اور پیغمبروں پرایمان لائے اور اللہ کی محبت میں عزیز مال رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اورمسافروں اور سائلوں کو اور (غلام لونڈیوں کی) گردنیں آزاد کرانے میں خرچ کرے اور نماز قائم رکھے اور زکوٰۃ دے اوروہ لوگ جو عہد کرکے اپنا عہد پورا کرنے والے ہیں اور مصیبت اور سختی میں اور جہاد کے وقت صبرکرنے والے ہیں یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں۔
{لَیۡسَ الْبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ: اصل نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرلو۔} مفسرین نے اس آیت کا خاص شانِ نزول بیان کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ یہ خطاب اہلِ کتاب اور مؤمنین سب کو ہے اور معنی یہ ہیں کہ صرف قبلہ کی طرف منہ کرلینا اصل نیکی نہیں جب تک عقائد درست نہ ہوں اور دل اخلاص کے ساتھ ربِّ قبلہ کی طرف متوجہ نہ ہو۔یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ضروری اعمال کو بجالاتے ہوئے اور دوسروں کے عمل کو حقیر اور معمولی نہ سمجھتے ہوئے کسی خاص عمل کو زیادہ رغبت و محبت اور کثرت کے ساتھ کرنا تو درست ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں لیکن ضروری عمل مثلاً فرائض و واجبات ترک کرنے کی صورت میں یا اپنے عمل اور طریقے کے علاوہ دوسروں کے عمل اور طریقے کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے کسی ایک عمل کوہی اچھا سمجھنا سراسر باطل اور غلط ہے۔ مثلاً ایک آدمی روزوں کی کثرت کرتا ہے تو وہ روزے نہ رکھنے والے کو حقیر نہ سمجھے، یونہی ذکرودرود کی کثرت کرنے والا تبلیغِ دین میں مشغول آدمی