Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
273 - 520
ہم معنیٰ بھی قرار دیا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ سوء سے مراد مطلقاً گناہ ہے اورفَحْشَآءِسے مراد کبیرہ گناہ ہیں۔ 
(صاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۶۹، ۱/۱۴۰)
شیطان کا کام کیا ہے؟
	 شیطان کا کام ہی یہ ہے کہ وہ لوگوں کو برائی کی طرف بلائے، کفرو شرک کی طرف، اللہ تعالیٰ کے متعلق غلط عقائد منسوب کرنے کی طرف یا اس کے حلال کردہ کو حرام کہنے اور اس کے حرام کردہ کو حلال کہنے کی طرف، برے کاموں مثلاً جھوٹ، غیبت، چغلی، وعدہ خلافی، بہتان، لڑائی فساد، حسد، بغض و کینہ، تکبر و اَنانیت، نفرت و عداوت، جنگ و جَدل، تذلیل و تحقیر، استہزاء والزام تراشی وغیرہ چیزوں کی طرف بلائے۔ یونہی بے حیائی کے کام گانے، باجے، فلمیں ، ڈرامے، ناچ، مُجرے، بدنگاہی، فحش گفتگو، گندی باتیں ، ناجائز تعلقات، بری نیت سے دیکھنا، چھونا، بدکاری وغیرہ گناہوں کی طرف بلانا شیطان کا کام ہے۔افسوس کی بات ہے کہ آج کل ان برائیوں میں سے بہت سی چیزوں کی طرف بلانے میں گھروالوں اور دوست احباب، گھر، بازار، معاشرہ، افسر وغیرہ کا تعاون یا ترغیب ہوتی ہے۔ کوئی آدمی نیکیوں کی طرف آنے کا سوچتا بھی ہے تو مذکورہ بالا افراد اسے کھینچ کر گناہوں کی طرف لے جاتے ہیں۔ اے کاش ہمیں اچھی صحبت، اچھا مطالعہ، اچھا گھرانہ اور اچھے دوست مل جائیں۔
وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمُ اتَّبِعُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللہُ قَالُوۡا بَلْ نَتَّبِعُ مَاۤ اَلْفَیۡنَا عَلَیۡہِ اٰبَآءَنَاؕ اَوَلَوْ کَانَ اٰبَآؤُہُمْ لَا یَعْقِلُوۡنَ شَیْـًٔا وَّلَا یَہۡتَدُوۡنَ﴿۱۷۰﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اور جب ان سے کہا جائے اللہ کے اتارے پر چلو تو کہیں بلکہ ہم تو اس پر چلیں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ عقل رکھتے ہوں نہ ہدایت۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب ان سے کہا جائے کہ اس کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے تو کہتے ہیں : بلکہ ہم تواس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایاہے۔ کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ عقل رکھتے ہوں نہ وہ ہدایت یافتہ ہوں ؟
{وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمُ: اورجب ان سے کہا جائے۔} جب کافروں سے کہا جاتا کہ توحید و قرآن پر ایمان لاؤ اور پاک چیزوں کو حلال جانو جنہیں اللہ تعالیٰ نے حلال کیاتو مشرکین اس کا ایک ہی جواب دیتے کہ ہم تو اسی راہ و رسم اور طور طریقے پر چلیں گے جس پر ہمارے باپ دادا چلتے آئے ہیں۔ انہیں فرمایا گیا کہ جب باپ دادا دین کے امور کونہ سمجھتے ہوں اور