طریقے سے مال کمایا اور اسے ناحق جگہ خرچ کیا تو اللہ تعالیٰ اسے ذلت و حقارت کے گھر (یعنی جہنم) میں داخل کردے گا اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے مال میں خیانت کرنے والے کئی لوگوں کے لئے قیامت کے دن جہنم ہوگی۔اللہعَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
کُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰہُمْ سَعِیۡرًا(بنی اسرائیل: ۹۷)
ترجمۂکنزُالعِرفان:جب کبھی بجھنے لگے گی تو ہم اسے اور بھڑکا دیں گے۔(شعب الایمان، الثامن والثلاثون من شعب الایمان، ۴/۳۹۶، الحدیث: ۵۵۲۷)
ان احادیث کو سامنے رکھتے ہوئے ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ حلال روزی کمائے اور حلال روزی سے ہی کھائے اور پہنے اسی طرح دوسروں کو بھی جو مال دے وہ حلال مال میں سے ہی دے ۔ہمارے بزرگان دین رزق کے حلال ہونے میں کس قدر احتیاط کرتے تھے ا س کی ایک جھلک ملاحظہ کیجئے ،چنانچہ ایک بار امیرالمؤمنین حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَاللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا غلام آپ کی خدمت میں دودھ لایا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اسے پی لیا ۔ غلام نے عرض کی، میں پہلے جب بھی کوئی چیز پیش کرتا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ا س کے بارے میں دریافت فرماتے تھے لیکن اِس دودھ کے بارے میں کچھ دریافت نہیں فرمایا؟ یہ سن کر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے پوچھا، یہ دودھ کیسا ہے؟ غلام نے جواب دیا کہ میں نے زمانۂ جاہلیت میں ایک بیمار پر منتر پھونکا تھا جس کے معاوضے میں آج اس نے یہ دودھ دیا ہے ۔ حضرت صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے یہ سن کر اپنے حلق میں اُنگلی ڈالی اور وہ دودھ اُگل د یا ۔ اِس کے بعد نہایت عاجزی سے دربارِ الٰہی میں عرض کیا ،’’ یااللہ! عَزَّوَجَلَّ، جس پر میں قادر تھا وہ میں نے کر دیا ، اس دودھ کا تھوڑا بہت حصہ جو رگوں میں رہ گیا ہے وہ معاف فرما دے۔(منہاج العابدین، العقبۃ الثالثۃ، تقوی الاعضاء الخمسۃ، الفصل الخامس، ص۹۷)
اِنَّمَا یَاۡمُرُکُمْ بِالسُّوۡٓءِ وَالْفَحْشَآءِ وَاَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَی اللہِ مَا لَا تَعْلَمُوۡنَ﴿۱۶۹﴾ ترجمۂکنزالایمان: وہ تو تمہیں یہی حکم دے گا بدی اور بے حیائی کا اور یہ کہ اللہ پر وہ بات جوڑو جس کی تمہیں خبر نہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ تمہیں صرف برائی اور بے حیائی کا حکم دے گا اور یہ (حکم دے گا) کہ تم اللہ کے بارے میں وہ کچھ کہو جو خود تمہیں معلوم نہیں۔
{اِنَّمَا یَاۡمُرُکُمْ بِالسُّوۡٓءِ وَالْفَحْشَآءِ: وہ تمہیں صرف برائی اور بے حیائی کا حکم دے گا۔}سوء اور فَحشاء کو مُترادف یعنی