Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
258 - 520
سے بہتر کون ہو گا؟ وہ تو پہلے گھر والے ہیں جنہوں نے حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی طرف ہجرت کی۔ بہر حال میں نے یہ دعاکہہ لی، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بدلے مجھے رسولاللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ عطا فرما دئیے (جو کہ حضرت ابو سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے بہت بہتر تھے) (مسلم، کتاب الجنائز، باب ما یقال عند المصیبۃ،  ص۴۵۷، الحدیث: ۳(۹۱۸))
(2)…حضرت امام حسین بن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے،حضور پر نور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس مسلمان مرد یا عورت پر کوئی مصیبت پہنچی اور وہ اسے یاد کر کے ’’ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ‘‘ کہے، اگرچہ مصیبت کا زمانہ دراز ہو گیا ہو تو اللہتعالیٰ اُس پر نیا ثواب عطا فرماتا ہے اور ویسا ہی ثواب دیتا ہے جیسا اس دن دیا تھا جس دن مصیبت پہنچی تھی ۔      (مسند  امام احمد، حدیث الحسین بن علی رضی اللہ تعالی عنہ،  ۱/۴۲۹، الحدیث: ۱۷۳۴)
(3)…ایک مرتبہ نبی اکرم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا چراغ بجھ گیا تو آپ نے ’’اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ‘‘ پڑھا۔ عرض کی گئی کیا یہ بھی مصیبت ہے ؟ ارشاد فرمایا: جی ہاں ! اور ہر وہ چیزجو مومن کو اَذِیَّت دے وہ اس کے لئے مصیبت ہے اور اس پر اجر ہے۔					         (در منثور، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۵۶، ۱/۳۸۰)
(4)…ایک اورحدیث شریف میں ہے کہ مصیبت کے وقت ’’اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ‘‘ پڑھنا رحمت ِالٰہی کا سبب ہوتا ہے۔ 			   (کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، ۲/۱۲۲، الجزء الثالث، الحدیث: ۶۶۴۶)
(5)…حضرت عبداللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’میری امت کو ایک ایسی چیز دی گئی ہے جو پہلی امتوں میں سے کسی کو نہیں دی گئی ،وہ چیز مصیبت کے وقت ’’اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ‘‘ پڑھنا ہے۔(معجم الکبیر، ۱۲/۳۲، الحدیث: ۱۲۴۱۱) 
اُولٰٓئِکَ عَلَیۡہِمۡ صَلَوٰتٌ مِّنۡ رَّبِّہِمْ وَرَحْمَۃٌ ۟ وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُہۡتَدُوۡنَ﴿۱۵۷﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: یہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی درو دیں ہیں اور رحمت اور یہی لوگ راہ پر ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے درود ہیں اور رحمت اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔
{اُولٰٓئِکَ عَلَیۡہِمۡ صَلَوٰتٌ مِّنۡ رَّبِّہِمْ وَرَحْمَۃٌ: یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے درود ہیں اور رحمت۔} صبر کرنے والے اللہ تعالیٰ کے محبوب ہوتے ہیں ، ان کیلئے بخشش اور ہدایت و رحمت ہے۔