Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
257 - 520
کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔  (ترمذی ، کتاب الزہد، باب ما جاء فی الصبر علی البلائ، ۴/۱۷۹، الحدیث: ۲۴۰۷)
	حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا:’’قیامت کے دن جب مصیبت زدہ لوگوں کو ثواب دیا جائے گا تو آرام و سکون والے تمنا کریں گے ،کاش! دنیا میں ان کی کھالیں قینچیوں سے کاٹ دی گئی ہوتیں۔ 		    (ترمذی ، کتاب الزہد، ۵۹-باب، ۴/۱۸۰، الحدیث: ۲۴۱۰)
الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصٰبَتْہُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ﴿۱۵۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: کہ جب ان پر کوئی مصیبت پڑے تو کہیں ہم اللہکے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ لوگ کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں : ہم اللہہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ 
{الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصٰبَتْہُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ:وہ لوگ کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے۔}اس سے پہلی آیت میں مصیبتوں پر صبر کرنے والوں کو جنت کی بشارت دی گئی اور اس آیت میں یہ بتایاگیا کہ صبر کرنے والے وہ لوگ ہیں کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں : ہم اللہتعالیٰ ہی کے مملوک اور اسی کے بندے ہیں وہ ہمارے ساتھ جو چاہے کرے اور آخرت میں ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔(جلالین، البقرۃ، تحت الایۃ: ۱۵۶، ص۲۲)
 ’’اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ‘‘ پڑھنے کے فضائل:
	احادیث میں مصیبت کے وقت ’’اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ‘‘ پڑھنے کے بہت فضائل بیان کئے گئے ہیں ، ان میں سے 5فضائل یہ ہیں :
(1)…اُم المؤمنین حضرت ام سلمہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا  فرماتی ہیں :میں نے سید المرسلین  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس مسلمان پر کوئی مصیبت آئے اور وہ اللہتعالیٰ کے حکم کے مطابق ’’اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ ‘‘ (پڑھے اور یہ دعا کرے) ’’اللہُمَّ أْجُرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِی وَاَخْلِفْ لِیْ خَیْرًا مِنْہَا‘‘اے اللہ!میری ا س مصیبت پر مجھے اجر عطا فرما اور مجھے اس کا بہتر بدل عطا فرما ‘‘تو اللہتعالیٰ اس کو اس سے بہتر بدل عطا فرمائے گا۔ حضرت ام سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں :جب حضرت ابو سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   فوت ہو گئے تو میں نے سوچا کہ مسلمانوں میں حضرت ابو سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ