اس کی اطاعت، جنت اور اس کی رضاہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے بار بار بلایا ہے۔صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی سیرت میں نیکیوں میں مقابلے اور سبقت لے جانے کے بکثرت نظارے دیکھے جا سکتے ہیں جیسے حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ غزوہ تَبوک میں گھر کا آدھا مال خیرات کرنے کیلئے لائے تو حضرت سیدنا صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ گھر کا سارا سامان لے آئے۔ (شرح الزرقانی، کتاب المغازی، ثم غزوۃ تبوک، ۴/۶۹)
صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم میں باپ بیٹے میں جہاد میں شرکت کیلئے بحث ہوتی، ہر کوئی کہتا کہ میں شرکت کروں گا تم گھر پر رہو، حتی کہ معذور صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم بھی راہِ خدا میں شہادت کیلئے بے قرار رہتے،
(مدار ج النبوہ، کارزارہائے صحابہ در جنگ احد، الجزء الثانی، ص۱۲۴)
غربت و بے کسی کی وجہ سے راہِ خدا میں سفر نہ کرسکنے والے روتے تھے۔(سورہ توبہ: ۹۲)ایک صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اگر آدھی رات عبادت کرتا تو دوسرا پوری رات، ایک اگرتہائی قرآن کی تلاوت کرتا تو دوسرا آدھے قرآن کی ۔ اللہتعالیٰ ہمیں بھی نیکیوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی توفیق اور جذبہ عطا فرمائے۔ (1)
{اَیۡنَ مَا تَکُوۡنُوۡا:تم جہاں کہیں بھی ہوگے۔} یعنی اے مسلمانو اور اہل کتاب !تم جہاں کہیں بھی ہو گے ،قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تم سب کو اکٹھا کر لائے گا اور وہ اطاعت گزار بندوں کو ثواب دے گا اور نافرمانوں کو عذاب میں مبتلا کر دے گا۔ بیشک اللہ تعالیٰ ہرشے پر قدرت رکھنے والا ہے تو وہ مخلوق کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے ،اطاعت گزاروں کو ثواب دینے اور سزا کے مستحق افراد کو عذاب دینے پر بھی قادر ہے۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۴۸، ۱/۱۰۱)
وَمِنْ حَیۡثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِؕ وَاِنَّہٗ لَلْحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَؕ وَمَا اللہُ بِغٰفِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوۡنَ﴿۱۴۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور جہاں سے آؤ اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرو اور وہ ضرور تمہارے رب کی طرف سے حق ہے اور اللہ تمہارے کاموں سے غافل نہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور (اے حبیب!) تم جہاں سے آؤ اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرو اور بیشک یہ یقینا تمہارے رب کی طرف سے حق ہے اور اللہ تمہارے کاموں سے غافل نہیں۔
1: نیکیوں کا جذبہ پانے کے لئے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافلوں میں سفر بے حد مفید ہے۔