ترجمۂکنزُالعِرفان: (اے سننے والے!) حق وہی ہے جو تیرے رب کی طرف سے ہو۔ پس توہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ ہونا۔
{اَلْحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ: حق وہی ہے جو تیرے رب کی طرف سے ہو۔} قبلہ کی تبدیلی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے لہٰذا حق ہے تو اس میں شک نہ کیا جائے۔ یونہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والا ہر حکم حق ہے اگرچہ اس کی حکمت ہمیں سمجھ آئے یا نہ آئے لیکن حق وہی ہوگا اور مسلمان کا کام اسے ماننا اور اس پر عمل کرناہے، کسی بھی طرح کے حالا ت میں اس میں شک کرنے کی گنجائش نہیں۔
وَ لِکُلٍّ وِّجْہَۃٌ ہُوَ مُوَلِّیۡہَا فَاسْتَبِقُوا الْخَیۡرٰتِؕؔ اَیۡنَ مَا تَکُوۡنُوۡا یَاۡتِ بِکُمُ اللہُ جَمِیۡعًاؕ اِنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ﴿۱۴۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور ہر ایک کے لئے توجہ کی ایک سمت ہے کہ وہ اسی طرف منہ کرتا ہے تو یہ چاہو کہ نیکیوں میں اوروں سے آگے نکل جائیں تم کہیں ہو اللہ تم سب کو اکٹھا لے آئے گا بیشک اللہ جو چاہے کرے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہر ایک کے لئے توجہ کی ایک سمت ہے جس کی طرف وہ منہ کرتا ہے توتم نیکیوں میں آگے نکل جاؤ۔ تم جہاں کہیں بھی ہوگے اللہ تم سب کو اکٹھا کر لائے گا۔ بیشک اللہ ہرشے پر قدرت رکھنے والا ہے۔
{وَ لِکُلٍّ وِّجْہَۃٌ: اور ہر ایک کے لئے توجہ کی ایک سمت ہے ۔} اس آیت میں تبدیلی قبلہ کی ایک اور حکمت بیان کی گئی ہے کہ ہر امت کیلئے ایک قبلہ مقرر کیا گیا تو جب امت ِ محمدِیَّہ ایک امت ہے اور سب سے افضل امت ہے تو ان کے خصوصی امتیاز کیلئے ان کا قبلہ دوسروں سے جداگانہ بنایا گیااوراس میں خصوصیت یہ ہے کہ ان کایہ قبلہ ہمیشہ کے لئے رہے گا کبھی تبدیل نہ ہو گا۔
{فَاسْتَبِقُوا الْخَیۡرٰتِ: تو نیکیوں میں آگے نکل جاؤ۔} یعنی قبلہ کا موضوع طے ہوگیا لہٰذا اب صرف اسی بحث میں نہ رہو بلکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت و اطاعت اور دین کے کاموں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔
مقابلہ کس چیز میں کرنا چاہئے:
یہاں آیت ِ مبارکہ میں ایک بڑی ہی پیاری بات سمجھائی گئی ہے کہ مال و دولت، عہدہ و منصب ، شہرت و مقبولیت اور دنیاداری ایسی چیز نہیں کہ اس میں ایک دوسرے سے مقابلہ کیا جائے بلکہ یہ سب تو آزمائش اور محض دنیاوی زندگی کی زینت، دھوکے کا سامان اور فنا ہونے والی کمائی ہے، جبکہ باقی رہنے والی اور مقابلے کے قابل چیز تو اللہ تعالیٰ کی عبادت،