Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
207 - 520
گی۔کافروں کے مقابلے میں مسلمانوں کی شفاعت بھی ہوگی جیسے قرآن میں بیسیوں جگہ ہے اور مسلمانوں کی مدد بھی ہوگی جیسے بخاری و مسلم کی حدیثوں میں ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَقیامت میں جگہ جگہ اپنے امتیوں کی مدد فرمائیں گے۔ 
وَ اِذِ ابْتَلٰۤی اِبْرٰہٖمَ رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّہُنَّؕ قَالَ اِنِّیۡ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًاؕ قَالَ وَمِنۡ ذُرِّیَّتِیۡؕ قَالَ لَا یَنَالُ عَہۡدِی الظّٰلِمِیۡنَ﴿۱۲۴﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور جب ابراہیم کو اس کے رب نے کچھ باتوں سے آزمایا تو اس نے وہ پوری کر دکھائیں فرمایا میں تمہیں لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں عرض کی اور میری اولاد سے فرمایا میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا۔
ترجمۂکنزالعرفان:اور یاد کروجب ابراہیم کو اس کے رب نے چندباتوں کے ذریعے آزمایا تو اس نے انہیں پورا کردیا (اللہ نے) فرمایا: میں تمہیں لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں۔ (ابراہیم نے) عرض کی اور میری اولاد میں سے بھی ۔فرمایا: میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا۔
{وَ اِذِ ابْتَلٰۤی: اور جب آزمایا۔} یہود و نصاریٰ اور مشرکینِ عرب سب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے فضل وشرف کے معترف اور آپ کی نسل میں ہونے پر فخر کرتے ہیں۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وہ حالات بیان فرمائے ہیں جن سے سب پر اسلام کا قبو ل کرنا لازم ہوجاتا ہے کیونکہ جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر واجب کیں وہ اسلام کی خصوصیات میں سے ہیں۔ابتلاء آزمائش کو کہتے ہیں ،خدائی آزمائش یہ ہے کہ بندے پر کوئی پابندی لازم فرما کر دوسروں پر اس کے کھرے کھوٹے ہونے کا اظہار کردیا جائے۔حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی آزمائش میں بہت سے شرعی احکام بھی تھے اور راہِ خدا میں آپ کی ہجرت، بیوی بچوں کا بیابان میں تنہا چھوڑنا، فرزند کی قربانی وغیرہ سب شامل ہیں۔
(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۴، ۱/۸۵-۸۶)
	آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تمام امتحانوں میں پورا اترے اور اللہ  تعالیٰ نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو لوگوں کا پیشوا بنادیا،آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام خلیلُ اللہ قرار پائے، انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے باپ ہوئے، تمام دینوں میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا تذکرہ ہوا، سب کے نزدیک محبوب ہوئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ شرعی احکام اور تکالیف اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش ہوتی ہیں اور جو اِن آزمائشوں میں پورا اترتا ہے وہ دنیا و آخرت کے انعامات کا مستحق قرار پاتا ہے۔