Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
206 - 520
{یٰبَنِیۡۤ اِسْرٰٓءِیۡلَ:اے بنی اسرائیل۔} یہاں سے ایک بار پھر بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلائی جا رہی ہیں تاکہ ان پر قائم کی گئی حجت مزید مضبوط ہو جائے۔ اس آیت سے دو مسئلے معلوم ہوئے: 
(1)…نبی کی اولاد ہونا باعث عزت ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ 
(2)… اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا چرچا کرنا، ذکر کرنا شکر کی ایک قسم ہے۔ لہٰذا حضور پرنور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی ولادتِ مبارکہ کا تذکرہ کرنا یا اس کی محفل کرنا اسی قسم میں داخل ہے۔ 
{اَنِّیۡ فَضَّلْتُکُمْ: بیشک میں نے تمہیں فضیلت دی۔} بنی اسرائیل اپنے زمانے میں تمام لوگوں سے افضل تھے کیونکہ یہ نبیوں کی اولاد تھے اور ان میں صالحین بہت تھے ،اب حضور اکرم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا انکار کر کے اور سرکشی کر کے ذلیل ہو گئے۔ ا س سے معلوم ہوا کہ عزت حضورا قدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے قدم سے وابستہ ہے، جو اِن کا ہو گیا عزت پا گیا اورجواِن سے پھر گیا ذلیل ہوگیا۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : 
بخدا خدا کا یہی ہے در ، نہیں اور کوئی مفر مقر		جو وہاں سے ہویہیں آکے ہوجویہاں نہیں وہ وہاں نہیں
وَاتَّقُوۡا یَوْمًا لَّا تَجْزِیۡ نَفْسٌ عَنۡ نَّفْسٍ شَیْـًٔا وَّلَا یُقْبَلُ مِنْہَا عَدْلٌ وَّلَا تَنۡفَعُہَا شَفَاعَۃٌ وَّلَا ہُمْ یُنۡصَرُوۡنَ﴿۱۲۳﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور ڈرو اس دن سے کہ کوئی جان دوسرے کا بدلہ نہ ہوگی اور نہ اس کو کچھ لے کر چھوڑیں اور نہ کافر کو کوئی سفارش نفع دے اور نہ ان کی مدد ہو۔
ترجمۂکنزالعرفان:اور اس دن سے ڈرو جب کوئی جان کسی دوسری جان کی طرف سے کوئی بدلہ نہ دے گی اور نہ اس سے کوئی معاوضہ لیا جائے گا اور نہ کافر کو سفارش نفع دے گی اور نہ ہی ان کی مدد کی جائے گی۔
{لَا تَنۡفَعُہَا شَفَاعَۃٌ:نہ کافر کو سفارش نفع دے گی۔} یہاں بنیادی طور پر ان یہودیوں کارد ہے جو کہتے تھے ہمارے باپ دادا بڑے بزرگ تھے وہ ہمیں شفاعت کرکے چھڑا لیں گے۔ انہیں فرمایا جارہا ہے کہ شفاعت کافر کے لیے نہیں ہے۔ گویایہاں کافر کا بیان ہے کہ کافر کی طرف سے کوئی بدلہ نہ بنے گا اور نہ اس سے کوئی معاوضہ لے کر اسے چھوڑا جائے اور نہ کوئی اس کی شفاعت کرے گا اور بالفرض اگر کوئی کرے تو کافر کے حق میں شفاعت قبول نہیں کی جائے گی اور نہ کافروں کی مدد کی جائے