{لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ: اسی کا ہے جو آسمانوں میں ہے۔} کسی کی اولاد اس کی ملکیت نہیں ہوسکتی اور جب آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے تو اس کی اولاد کیسے ہوسکتی ہے؟ نیزاولاد حقیقت میں ماں باپ کا جز ہوتی ہے اور آدمی اپنے جز کا مالک نہیں ہوتا۔
بَدِیۡعُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِؕ وَ اِذَا قَضٰۤی اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوۡلُ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ﴿۱۱۷﴾
ترجمۂکنزالایمان:نیا پیدا کرنے والا آسمانوں اور زمین کا اور جب کسی بات کا حکم فرمائے تو اس سے یہی فرماتا ہے کہ ہو جا وہ فورا ً ہو جاتی ہے ۔
ترجمۂکنزالعرفان:(وہ)بغیر کسی سابقہ مثال کے آسمانوں اور زمین کونیا پیدا کرنے والا ہے اور جب وہ کسی کام (کو وجود میں لانے) کا فیصلہ فرماتا ہے تو اس سے صرف یہ فرماتا ہے کہ’’ ہو جا‘‘ تووہ فورا ہوجاتا ہے۔
{بَدِیۡعُ: بغیر مثال کے بنانے والا۔} بدیع کا معنیٰ ہے کسی چیز کو بغیر کسی سابقہ مثال کے نئے طور پربنانے والا۔ اللہ تعالیٰ کے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے پہلے نہ کوئی آسمان تھا اور نہ زمین تو اللہ تعالیٰ نئے طور پر اسے عدم سے وجود میں لایا۔ اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کے اعتبار سے ہی بدیع ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہرچیز کو خود ہی وجود بخشا ہے، پہلے کسی شے کی مثال موجود نہ تھی۔
{وَ اِذَا قَضٰۤی: اور جب فیصلہ فرماتا ہے۔} فیصلہ فرمانے سے مراد ارادہ کرنا ہے جیساکہ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’اِنَّمَاۤ اَمْرُہٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَیْـًٔا اَنْ یَّقُوۡلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوۡنُ ﴿۸۲﴾‘‘ ( یس: ۸۲)
ترجمۂکنزالعرفان:اس کا کام تو یہی ہے کہ جب کسی چیز کا ارادہ فرماتا ہے تو اس سے فرماتا ہے، ’’ ہوجا‘‘ تو وہ فوراً ہوجاتی ہے
اوراس آیت سے اصل مراد یہ ہے کہ ایسا ہونا ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی شے کا ارادہ فرمائے اور وہ نہ ہو بلکہ اللہتعالیٰ کا ارادہ قطعی طور پر نافذ ہوتا ہے اورکسی شے کو وجود میں لانے کیلئے اللہ تعالیٰ کو انسانو ں کی طرح محنت و مشقت کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا اس چیز کے وجود کا ارادہ فرمالینا ہی کافی ہے۔یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بھی کام