فرمایا:’’اللہ تعالیٰ کے ذکر کے علاوہ زیادہ کلام نہ کیا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے علاوہ کلام کی کثرت دل کو سخت کر دیتی ہے اور لوگوں میں اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ دور وہ شخص ہوتا ہے جس کا دل سخت ہو۔
(ترمذی، کتاب الزہد، ۶۲-باب منہ، ۴/۱۸۴، الحدیث: ۲۴۱۹)
دل کی سختی سے متعلق مزید کلام سورۂ حدید کی آیت نمبر16،17کے تحت ملاحظہ فرمائیں۔
اَفَتَطْمَعُوۡنَ اَنْ یُّؤْمِنُوۡا لَکُمْ وَقَدْ کَانَ فَرِیۡقٌ مِّنْہُمْ یَسْمَعُوۡنَ کَلٰمَ اللہِ ثُمَّ یُحَرِّفُوۡنَہٗ مِنۡۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوۡہُ وَہُمْ یَعْلَمُوۡنَ﴿۷۵﴾
ترجمۂکنزالایمان:تو اے مسلمانو کیا تمہیں یہ طمع ہے کہ یہ یہودی تمہارا یقین لائیں گے اور ان میں کا تو ایک گروہ وہ تھا کہ اللہ کا کلام سنتے پھر سمجھنے کے بعد اسے دانستہ بدل دیتے۔
ترجمۂکنزالعرفان:تو اے مسلمانو!کیا تم یہ امید رکھتے ہو کہ یہ تمہاری وجہ سے ایمان لے آئیں گے حالانکہ ان میں ایک گروہ وہ تھا کہ وہ اللہ کا کلام سنتے تھے اور پھراسے سمجھ لینے کے بعد جان بوجھ کر بدل دیتے تھے۔
{اَفَتَطْمَعُوۡنَ: کیا تمہیں یہ امید ہے۔} انصار صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو اس بات کی بہت حرص تھی کہ یہودی اسلام قبول کر لیں کیونکہ وہ یہودیوں کے حلیف تھے اور ان کے پڑوسی بھی تھے، اس پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے مسلمانو! کیا تم یہ امید رکھتے ہو کہ یہ یہودی تمہارا یقین کریں گے یا تمہاری تبلیغ کی وجہ سے ایمان لے آئیں گے حالانکہ ان میں ایک گروہ وہ تھا جوصرف علماء پر مشتمل تھا، وہ اللہ تعالیٰ کا کلام یعنی تورات سنتے تھے اور پھر اسے سمجھ لینے کے بعد جان بوجھ کر بدل دیتے تھے، اسی طرح ان یہودیوں نے بھی تورات میں تحریف کی اور رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نعت بدل ڈالی، توایسے لوگ کہاں ایمان لائیں گے؟ لہٰذا تم ان کے ایمان کی امید نہ رکھو۔ (قرطبی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۷۵، ۱/۳-۴، الجزء الثانی، بیضاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۷۵، ۱/۳۴۷-۳۴۸، ملتقطاً)
عالم کابگڑنا زیادہ تباہ کن ہے:
اس سے معلوم ہوا کہ عالم کا بگڑنا عوام کے بگڑنے سے زیادہ تباہ کن ہے کیونکہ عوام علماء کو اپنا ہادی اور رہنما سمجھتے ہیں ، وہ علماء کے اقوال پر عمل کرتے اور ان کے افعال کو دلیل بناتے ہیں اور جب علماء ہی کے عقائد و اعمال میں بگاڑ پیدا