{ثُمَّ قَسَتْ قُلُوۡبُکُمۡ: پھر تمہارے دل سخت ہوگئے۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے زمانے میں موجود یہودیوں کو مخاطب کر کے فرمایا گیا کہ اپنے آباؤ اجداد کے عبرت انگیز واقعات سننے کے بعد تمہارے دل حق بات کو قبول کرنے کے معاملے میں سخت ہوگئے اور وہ شدت و سختی میں پتھروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ سخت ہیں کیونکہ پتھر بھی اثر قبول کرتے ہیں کہ کچھ پتھروں سے ندیاں بہہ نکلتی ہیں اور کچھ ایسے ہیں کہ جب پھٹ جاتے ہیں تو ان سے پانی نکلتا ہے اور کچھ وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ڈر سے اوپر سے نیچے گر پڑتے ہیں جبکہ تمہارے دل اطاعت کے لئے جھکتے ہیں نہ نرم ہوتے ہیں ، نہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور نہ ہی وہ کام کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے اور یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے ہرگز بے خبر نہیں بلکہ وہ تمہیں ایک خاص وقت تک کے لئے مہلت دے رہا ہے۔
(روح البیان، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۷۴، ۱/۱۶۳-۱۶۴، جلالین، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۷۴، ص۱۲، ملتقطاً)
دوسری تفسیر یہ ہے کہ اس آیت میں بنی اسرائیل کے وہ لوگ مراد ہیں جو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے زمانے میں موجود تھے، ان کے بارے میں فرمایا گیا کہ بڑی بڑی نشانیاں اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے معجزات دیکھ کر بھی انہوں نے عبرت حاصل نہ کی، ان کے دل پتھروں کی طرح ہوگئے بلکہ ان سے بھی زیادہ سخت کیونکہ پتھر بھی اثر قبول کرتے ہیں کہ ان میں کسی سے ندیاں بہہ نکلتی ہیں ، کوئی پتھرپھٹ جاتا ہے تو اس سے پانی بہتا ہے اور کوئی خوف ِ الٰہی سے گرجاتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا ہے لیکن انسان جسے بے پناہ اِدراک و شعور دیا گیا ہے، حواس قوی ہیں ، عقل کامل ہے، دلائل ظاہر ہیں ، عبرت و نصیحت کے مواقع موجود ہیں لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی کی طرف نہیں آتا۔
دل کی سختی کا انجام:
اس سے معلوم ہو اکہ دل کی سختی بہت خطرناک ہے۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے:
’’اَفَمَنۡ شَرَحَ اللہُ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلٰمِ فَہُوَ عَلٰی نُوۡرٍ مِّنۡ رَّبِّہٖ ؕ فَوَیۡلٌ لِّلْقٰسِیَۃِ قُلُوۡبُہُمۡ مِّنۡ ذِکْرِ اللہِ ؕ اُولٰٓئِکَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۲۲﴾‘‘ (زمر: ۲۲)
ترجمۂکنزالعرفان: تو کیا وہ جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا تو وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر ہے (اس جیسا ہوجائے گا جو سنگدل ہے) تو خرابی ہے ان کیلئے جن کے دل اللہ کے ذکر کی طرف سے سخت ہوگئے ہیں۔وہ کھلی گمراہی میں ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے،حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد