ملے گا جو تم نے مانگا ہے اور ان پر ذلت اور غربت مسلط کردی گئی اوروہ خدا کے غضب کے مستحق ہوگئے۔ یہ ذلت و غربت اس وجہ سے تھی کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور انبیاء کو ناحق شہید کرتے تھے۔ (اور)یہ اس وجہ سے تھی کہ انہوں نے نافرمانی کی اور وہ مسلسل سرکشی کررہے تھے۔
{لَنۡ نَّصْبِرَ عَلٰی طَعَامٍ وّٰحِدٍ:ہم ایک کھانے پر ہرگز صبر نہیں کریں گے۔} بعض لوگوں کی طبیعت میں کم ہمتی، نالائقی اور نیچ پن ہوتا ہے ۔ آپ انہیں پکڑ کر بھی اوپر کرنا چاہیں تو وہ کم تر اور نیچے رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایسے لوگ عموما زندگی کی لذتوں اور نعمتوں سے فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔ بلند ہمت اور بہتر سے بہتر کے طالب ہی خالق و مخلوق کے ہاں پسندیدہ ہوتے ہیں۔بنی اسرائیل پر نعمتوں کے ذکر کے بعد یہاں سے ان کی کم ہمتی اور نالائقی ونافرمانی کے کچھ واقعات بیان فرمائے جاتے ہیں۔ان میں سے ایک واقعہ یہ ہے: بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے مطالبہ کیا کہ ہم ایک ہی قسم کے کھانے پر صبر نہیں کرسکتے، آپ دعا کریں کہ ہمیں زمین کی ترکاریاں اور دالیں وغیرہ ملیں۔حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے انہیں سمجھایا کہ تمہیں اتنا اچھا کھانا بغیر محنت کے مل رہا ہے ، کیا اس کی جگہ ادنیٰ قسم کا کھانا لینا چاہتے ہو؟ لیکن جب وہ نہ مانے تو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی۔ اِس پر حکم ہوا کہ اے بنی اسرائیل!اگر تمہارایہی مطالبہ ہے تو پھر مصرجاؤ وہاں تمہیں وہ چیزیں ملیں گی جن کا تم مطالبہ کررہے ہو۔ مصر سے مراد یا توملک ِمصر یا مطلقا کوئی بھی شہرہے۔
بڑوں سے نسبت رکھنے والے کو کیا کرنا چاہئے:
یہاں اس بات کا خیال رکھیں کہ ساگ ککڑی وغیرہ جو چیزیں بنی اسرائیل نے مانگیں ان کا مطالبہ گناہ نہ تھا لیکن ’’ مَن وسلوٰی‘‘ جیسی نعمت بے محنت چھوڑ کر ان کی طرف مائل ہونا پست خیالی ہے۔ ہمیشہ ان لوگوں کا میلانِ طبع پستی ہی کی طرف رہا اور حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامایسے جلیل القدر، بلند ہمت انبیاء کے بعد توبنی اسرائیل کے نیچ پن اور کم حوصلگی کا پورا ظہور ہوا۔ جب بڑوں سے نسبت ہو تو دل و دماغ اور سوچ بھی بڑی بنانی چاہئے اور مسلمانوں کو تو بنی اسرائیل سے زیادہ اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ ان کی نسبت سب سے بڑی ہے۔
{ضُرِبَتْ عَلَیۡہِمُ الذِّلَّۃُ وَالْمَسْکَنَۃُ:ان پر ذلت و غربت مسلط کردی گئی۔} یعنی یہودیوں پر ان کے گھٹیا کردار کی وجہ سے ذلت و غربت مسلط کردی گئی۔ ان پر غضب ِ الٰہی کی صورت یہ ہوئی کہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماور صلحاء کی بدولت جو