Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
139 - 520
اور اس پتھر کے چشموں کا پانی پیو جو تمہیں فضل الٰہی سے بغیر محنت کے میسر ہے اوراس بات کا خیال رکھو کہ فتنہ و فساد سے بچو اور گناہوں میں نہ پڑو۔ ہر امت کو یہی حکم تھا کہ اللہ  تعالیٰ کا رزق کھاؤ لیکن فساد نہ پھیلاؤ۔ یعنی رزق کے استعمال سے منع نہیں فرمایا بلکہ حرام کمانے، حرام کھانے، کھاکر خدا کی ناشکری و نافرمانی سے منع کیا گیا ہے۔ 
وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوۡسٰی لَنۡ نَّصْبِرَ عَلٰی طَعَامٍ وّٰحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الۡاَرْضُ مِنۡۢ بَقْلِہَا وَقِثَّآئِہَا وَفُوۡمِہَا وَعَدَسِہَا وَبَصَلِہَا ؕ قَالَ اَتَسْتَبْدِلُوۡنَ الَّذِیۡ ہُوَ اَدْنٰی بِالَّذِیۡ ہُوَ خَیۡرٌ ؕ اِہۡبِطُوۡا مِصْرًا فَاِنَّ لَکُمۡ مَّا سَاَلۡتُمۡ ؕ وَضُرِبَتْ عَلَیۡہِمُ الذِّلَّۃُ وَالْمَسْکَنَۃُ ٭ وَبَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللہِ ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ کَانُوۡا یَکْفُرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللہِ وَیَقْتُلُوۡنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیۡرِ الْحَقِّ ؕ ذٰلِکَ بِمَا عَصَوۡا وَّکَانُوۡا یَعْتَدُوۡنَ﴿۶۱﴾٪
 ترجمۂکنزالایمان:اور جب تم نے کہا اے  موسٰیہم سے تو ایک کھانے پر ہرگز صبر نہ ہوگا تو آپ اپنے رب سے دعاء کیجئے کہ زمین کی اگائی ہوئی چیزیں ہمارے لئے نکالے کچھ ساگ اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز فرمایاکیا ادنیٰ چیزکو بہتر کے بدلے مانگتے ہواچھا مصر یا کسی شہر میں اترو وہاں تمہیں ملے گا جو تم نے مانگا اور ان پر مقرر کردی گئی خواری اور ناداری اور خدا کے غضب میں لوٹے یہ بدلہ تھا اس کا کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے اور انبیاء کو ناحق شہید کرتے یہ بدلہ تھا ان کی نافرمانیوں اور حد سے بڑھنے کا۔
ترجمۂکنزالعرفان:اور جب تم نے کہا :اے موسیٰ! ہم ایک کھانے پر ہرگز صبر نہیں کرسکتے۔ لہٰذا آپ اپنے رب سے دعاکیجئے کہ ہمارے لئے وہ چیزیں نکالے جو زمین اگاتی ہے جیسے ساگ اور ککڑی اور گندم اور مسور کی دال اور پیاز۔ فرمایا: کیا تم بہتر چیز کے بدلے میں گھٹیا چیزیں مانگتے ہو۔ (اچھا پھر ) ملک ِمصریا کسی شہر میں قیام کرو، وہاں تمہیں وہ سب کچھ