Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
135 - 520
اَرِیحا جو بیت المقدس کے قریب ہے جس میں عمالقہ آباد تھے اور وہ اسے خالی کر گئے تھے ،وہاں غلے میوے بکثرت تھے ۔اس بستی کے دروازے میں داخل ہونے کا فرمایا گیا اور یہ دروازہ ان کے لیے کعبہ کی طرح تھا اور اس میں داخل ہونا اور اس کی طرف سجدہ کرنا گناہوں کی معافی کا سبب تھا ۔ بنی اسرائیل کو حکم یہ تھا کہ دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہوں اور زبان سے ’’حِطَّۃٌ ‘‘ کہتے جائیں (یہ کلمہ استغفار تھا۔) انہوں نے دونوں حکموں کی مخالفت کی اورسجدہ کرتے ہوئے داخل ہونے کی بجائے سرینوں کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے اور توبہ و استغفار کا کلمہ پڑھنے کی بجائے مذاق کے طور پر’’حَبَّۃٌ فِی شَعْرۃٍ ‘‘ کہنے لگے جس کا معنیٰ تھا: بال میں دانہ۔ اس مذاق اور نافرمانی کی سزا میں ان پر طاعون مسلط کیا گیا جس سے ہزاروں اسرائیلی ہلاک ہو گئے ۔ 
(تفسیرخازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۵۸،۱/۵۶، مدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۵۸، ص۵۳، تفسیر عزیزی (مترجم)،۱/۴۵۶-۴۵۷، ملتقطاً)
فَبَدَّلَ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا قَوْلًا غَیۡرَ الَّذِیۡ قِیۡلَ لَہُمْ فَاَنۡزَلْنَا عَلَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا کَانُوۡا یَفْسُقُوۡنَ﴿۵۹﴾٪
ترجمۂکنزالایمان:تو ظالموں نے اور بات بدل دی جو فرمائی گئی تھی اس کے سوا تو ہم نے آسمان سے ان پر عذاب اتارا بدلہ ان کی بے حُکمی کا۔
ترجمۂکنزالعرفان: پھر ان ظالموں نے جو اُن سے کہا گیا تھا اسے ایک دوسری بات سے بدل دیاتو ہم نے آسمان سے ان ظالموں پر عذاب نازل کردیاکیونکہ یہ نافرمانی کرتے رہے تھے۔ 
{فَاَنۡزَلْنَا عَلَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ:تو ہم نے آسمان سے ان ظالموں پر عذاب نازل کردیا۔ }بنی اسرائیل پر طاعون کا عذاب مسلط کیا گیا اور اس کی وجہ سے ایک ساعت میں ان کے70,000افراد ہلاک ہو گئے تھے۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۵۹،۱/۵۶)
طاعون کے بارے میں 3احادیث:
یہاں طاعون کا ذکر ہوا،اس مناسبت سے طاعون سے متعلق 3احادیث ملاحظہ ہوں :
(1)…حضرت اسامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور اقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا:’’بے شک یہ طاعون ایک عذاب ہے جسے تم سے پہلے لوگوں پر مسلط کیا گیا تھا لہٰذا جب کسی جگہ طاعون ہو(اور تم