Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
134 - 520
ہوتا۔ ان کے کپڑے میلے اور پرانے نہ ہوتے، ناخن اور بال نہ بڑھتے۔
(تفسیر جمل ، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۵۷، ۱/۸۱، روح البیان، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۵۷، ۱/۱۴۱-۱۴۲)
{وَاَنۡزَلْنَا عَلَیۡکُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰی:اور تم پر من اور سلویٰ اتارا ۔} اُس صحرا میں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی برکت سے ان کے کھانے کا انتظام یوں ہوا کہ انہیں مَن و سَلْویٰ ملنا شروع ہوگیا۔من و سلوی کے بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں :
	’’من‘‘ کے بارے میں صحیح قول یہ ہے کہ یہ ترنجبین کی طرح ایک میٹھی چیز تھی جو روزانہ صبح صادق سے طلوع آفتاب تک ہر شخص کے لیے ایک صاع(یعنی تقریبا چار کلو) کی بقدر اترتی اور لوگ اس کو چادروں میں لے کر دن بھر کھاتے رہتے۔ بعض مفسرین کے نزدیک ’’من ‘‘ سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جو اللہ  تعالیٰ نے اپنے بندوں کو کسی مشقت اور کاشتکاری کے بغیر عطا کر کے ان پر احسان فرمایا۔’’ سلویٰ‘‘ کے بارے میں صحیح قول یہ ہے کہ یہ ایک چھوٹا پرندہ تھا، اور اس کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ یہ پرندہ بھنا ہو ابنی اسرائیل کے پاس آتا تھا اور ایک قول یہ ہے کہ جنوبی ہوا اس پرندے کو لاتی اور بنی اسرائیل اس کا شکار کر کے کھاتے۔ یہ دونوں چیزیں ہفتے کوبالکل نہ آتیں ،باقی ہر روز پہنچتیں ، جمعہ کودگنی آتیں اور حکم یہ تھا کہ جمعہ کو ہفتے کے لیے بھی جمع کرلو مگر ایک دن سے زیادہ کا جمع نہ کرو۔ بنی اسرائیل نے ان نعمتوں کی ناشکری کی اورذخیرے جمع کیے، وہ سڑ گئے اور ان کی آمد بند کردی گئی۔ یہ انہوں نے اپنا ہی نقصان کیا کہ دنیا میں نعمت سے محروم ہوئے اور آخرت میں سزاکے مستحق ہوئے۔
 (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۵۷،۱/۵۶، روح البیان، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۵۷، ۱/۱۴۲)
وَ اِذْ قُلْنَا ادْخُلُوۡا ہٰذِہِ الْقَرْیَۃَ فَکُلُوۡا مِنْہَا حَیۡثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَّادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّقُوۡلُوۡا حِطَّۃٌ نَّغْفِرْلَکُمْ خَطٰیٰکُمْ ؕ وَسَنَزِیۡدُ الْمُحْسِنِیۡنَ﴿۵۸﴾
 ترجمۂکنزالایمان:اور جب ہم نے فرمایا اس بستی میں جاؤپھر اس میں جہاں چاہو بے روک ٹوک کھاؤ اور دروازہ میں سجدہ کرتے داخل ہواور کہو ہمارے گناہ معاف ہوں ہم تمہاری خطائیں بخش دیں گے اور قریب ہے کہ نیکی والوں کو اور زیادہ دیں۔
ترجمۂکنزالعرفان:اور جب ہم نے انہیں کہا کہ اس شہر میں داخل ہوجاؤ پھر اس میں جہاں چاہو بے روک ٹوک کھاؤ اور دروازے میں سجدہ کرتے داخل ہونااور کہتے رہنا، ہمارے گناہ معاف ہوں ، ہم تمہاری خطائیں بخش دیں گے اور عنقریب ہم نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ عطا فرمائیں گے۔ 
{وَ اِذْ قُلْنَا ادْخُلُوۡا ہٰذِہِ الْقَرْیَۃَ:اور جب ہم نے کہا اس شہر میں داخل ہوجاؤ۔ }اس شہر سے ’’بیتُ المقدس‘‘ مراد ہے یا