ترجمۂکنزالعرفان:اور اس دن سے ڈروجس دن کوئی جان کسی دوسرے کی طرف سے بدلہ نہ دے گی اور نہ کوئی سفارش مانی جائے گی اور نہ اس سے کوئی معاوضہ لیا جائے گا اور نہ ان کی مددکی جائے گی۔
{لَا تَجْزِیۡ نَفْسٌ عَنۡ نَّفْسٍ شَیْـًٔا:کوئی جان کسی دوسرے کی طرف سے بدلہ نہ دے گی۔}یعنی اے بنی اسرائیل ! قیامت کے اس دن سے ڈرو جس دن کوئی بھی شخص کسی کافر کی طرف سے بدلہ نہ دے گا اور نہ کافر کے بارے میں کسی کی کوئی سفارش مانی جائے گی اور نہ اس کافرسے جہنم کے عذاب سے نجات کے بدلے کوئی معاوضہ لیا جائے گا اور نہ ان کفارسے اللہ تعالیٰ کا عذاب دور کر کے ان کی مددکی جائے گی۔ (روح البیان، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۴۸، ۱/۱۲۶-۱۲۷)
شفاعت کی امید پر گناہ کرنے والا کیسا ہے؟
اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن کافر کو نہ کوئی کافر نفع پہنچا سکے گا اور نہ کوئی مسلمان،اس دن شفاعت صرف مسلمان کیلئے ہوگی جیسا کہ دیگر آیات میں بیان ہوا البتہ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ شفاعت کی امید پر گناہ کرنے والا ایسا ہی ہے جیسے اچھے ڈاکٹر کے مل جانے کی امید پر کوئی زہر کھالے یا ہڈیوں کے ماہر ڈاکٹر کے ملنے کی امید پرگا ڑی کے نیچے آکر سارے بدن کی ہڈیاں تڑوالے۔
وَ اِذْ نَجَّیۡنٰکُمۡ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوۡمُوۡنَکُمْ سُوۡٓءَ الْعَذَابِ یُذَبِّحُوۡنَ اَبْنَآءَکُمْ وَیَسْتَحْیُوۡنَ نِسَآءَکُمْ ؕ وَ فِیۡ ذٰلِکُمۡ بَلَآ ءٌ مِّنۡ رَّبِّکُمْ عَظِیۡمٌ﴿۴۹﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور یاد کروجب ہم نے تم کو فرعون والوں سے نجات بخشی کہ تم پر بُرا عذاب کرتے تھے تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ رکھتے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی بلا تھی یا بڑا انعام۔
ترجمۂکنزالعرفان:اور (یاد کرو)جب ہم نے تمہیں فرعونیوں سے نجات دی جو تمہیں بہت برا عذاب دیتے تھے، تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے تھے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ چھوڑ دیتے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش تھی ۔
{وَ اِذْ نَجَّیۡنٰکُمۡ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ: اورجب ہم نے تمہیں فرعونیوں سے نجات دی۔} اس سے پہلی آیات میں بنی اسرائیل پر کی گئی نعمتوں کا اجمالی طور پر ذکر ہوا اور اب یہاں سے ان نعمتوں کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے بنی اسرائیل! میری وہ نعمت یاد کرو کہ جب ہم نے تمہیں فرعون کی پیروی کرنے والوں سے نجات دی