Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
125 - 520
	یاد رہے کہ ان آیات میں بنی اسرائیل کے ان لوگوں سے خطاب کیاجا رہا ہے جو سید المرسَلینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے مقدس زمانے میں موجود تھے اور انہیں اللہ تعالیٰ کی جو نعمتیں یاد کرنے کا حکم دیاجارہا ہے وہ یہ ہیں :
 (1)…تمام اہلِ زمانہ پر فضیلت و برتری،(2)…دریامیں راستہ بن جانا،(3)…فرعون سے نجات، (4) … تورات کا عطا ہونا، (5)…بچھڑے کی پوجا پر معافی مل جانا، (6)…ایک گروہ کا مرنے کے بعد زندہ کیا جانا، (7)…بادلوں سے سایہ ملنا، (8)…مَن و سَلویٰ نازل ہونا، (9)…پانی کے بارہ چشمے جاری ہوجانا، (10)…زمینی اناج عطا کیا جانا وغیرہ، یہ تمام نعمتیں ان کے آباؤ اجداد کو عطا کی گئی تھیں اور چونکہ جو نعمت آباؤ اجداد کو ملی ہو وہ ان کی اولاد کے حق میں بھی نعمت ہوتی ہے ا س لئے ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے یعقوب کی اولاد! میرا وہ احسان یاد کروجو میں نے تم پر کیا اور میرے حبیب  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی پیروی کر کے اور ان کے دین میں داخل ہو کر میری ان نعمتوں کا شکر ادا کرو۔‘‘ بنی اسرائیل کی نعمتوں کو سامنے رکھ کر امت ِ محمدیہ پر ہونے والے انعامات کو شمار کریں توہم سمجھ سکتے ہیں کہ شکرگزاری کا تقاضا ہم سے کس قدر مطلوب ہے۔ 
{اَنِّیۡ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیۡنَ:میں نے تمہیں تمام جہان والوں پر فضیلت عطا فرمائی۔}اس سے مراد یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو ان کے زمانے میں تمام لوگوں پر فضیلت عطا کی گئی ،اور جب حضور پرنور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی آمد ہوئی تو یہ فضیلت آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی امت کی طرف منتقل ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی امت کو سب امتوں سے افضل بنا دیاجیسا کہ ارشاد فرمایا: 
’’کُنۡتُمْ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ‘‘ (اٰل عمران: ۱۱۰)
ترجمۂکنزُالعِرفان:(اے مسلمانو!)تم بہترین امت ہو جو لوگوں (کی ہدایت )کے لئے ظاہر کی گئی۔
وَاتَّقُوۡا یَوْمًا لَّا تَجْزِیۡ نَفْسٌ عَنۡ نَّفْسٍ شَیْـًٔا وَّلَا یُقْبَلُ مِنْہَا شَفٰعَۃٌ وَّلَا یُؤۡخَذُ مِنْہَا عَدْلٌ وَّلَا ہُمْ یُنۡصَرُوۡنَ﴿۴۸﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور ڈرو اس دن سے جس دن کوئی جان دوسرے کا بدلہ نہ ہوسکے گی اور نہ کافر کے لئے کوئی سفارش مانی جائے اور نہ کچھ لے کر اس کی جان چھوڑی جائے اور نہ ان کی مدد ہو۔