حوالہ جات بالتفصیل لکھے گئے ہیں یعنی کتاب، باب ، فصل، جلد و صفحہ نمبر اوررقم الحدیث کے ساتھ(مثلاًترمذی،کتاب صفۃ القیامۃ،باب ماجاء فی شان الصور، ۴/۱۹۵، الحدیث ۲۴۳۹)۔کوشش کی گئی ہے کہ احادیث کا حوالہ مراجع حدیث سے دیا جائے لیکن کئی مقامات پر باوجود کوشش کے حدیث کی کتاب سے حوالہ نہ مل سکا تو مجبوراً دوسری کتاب سے حوالہ دیا گیا ہے ۔
٭…جن کتب سے تخریج کی گئی ہے آخر میں ان تمام کی فہرست’’ مآخذ و مراجع ‘‘ کے نام سے بنائی گئی ہے اور اس فہرست میں مصنفین و مؤلفین کے نام مع سنِ وَفات ، مطابِع اور سن طباعت بھی ذکر کر دئیے گئے ہیں ۔
٭…چند ایک مقامات پر ضرورتاً حواشی کا بھی اہتمام کیا گیا ہے اور آخر میں ’’ علمیہ ‘‘ لکھا گیا ہے۔
٭…جا بجامشکل اور غیرمعروف الفاظ پر اعراب بھی لگائے گئے ہیں ۔اسی طرح اَعلام (یعنی بزرگانِ دین،روایت کرنے والوں یا دیگر کے ناموں) پر بھی اعراب کا اہتمام کیا گیا ہے۔
٭…آیات میں قرانی رسم الخط( خط عثمانی) بر قرار رکھنے کے لیے تمام آیات ایک مخصوص قرانی سافٹ وئیر سے) Corel Draw کے ذریعے( پیسٹ کی گئی ہیں ۔
٭… کنز الایمان کا ذوق رکھنے والوں کیلئے حاشیہ میں ترجمہ کنز الایمان بھی پیش کیاگیا ہے۔
٭…آیات و تراجم کا تقابل کنزالایمان( مطبو عہ مکتبۃ المدینہ)سے دو مرتبہ کیا گیا ہے۔