بہت بڑی پریشانی کا سبب بن جائیں گے ۔ اِسی طرح بعض پودے خاص قسم کى بُو چھوڑتے ہىں جسے عام طور پر پسند نہىں کیا جاتا اور وہ لوگوں کے لیے تکلىف کا باعِث بنتى ہے لہٰذا اِس طرح کے پودے بھی ہرگز نہ لگائے جائیں ۔ یوں ہی بعض علاقوں میں بہت سے ایسے دَرخت موجود ہیں کہ جن سے موسمِ خزاں یا موسمِ سَرما کی اِبتدا میں رُوئی اُڑتی ہے جس کے ذَرّات ہوا میں اِس قدر پھیل جاتے ہیں کہ دَمے کے مریضوں کے لیے سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے یہاں تک کہ اُن دِنوں میں بعض لوگوں کو اپنا شہر تک چھوڑنا پڑتا ہے لہٰذا ایسے دَرخت لگانے سے بھی اِجتناب کیا جائے ۔
(5 ) کانٹے دار پودے لگانے سے بھی بچا جائے کیونکہ انہیں گھر میں لگانے کی صورت میں بچوں اور گھر کے دِیگر اَفراد کو تکلیف پہنچ سکتی ہے ۔ نیز اگر یہ پودے بڑھ کر دَرخت کی صورت اِختیار کر گئے اور اُن کی شاخیں پھیل کر پڑوسیوں کے گھروں تک پہنچ گئیں تو انہیں بھی تکلیف کاسامنا کرنا پڑے گا لہٰذا اگر ایسے پودے کچھ خاص اِحتیاطوں کے ساتھ لگائے جاتے ہوں تو ان اِحتیاطوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے انہیں لگایا جائے یا پھر انہیں لگانے سے ہی اِجتناب کیا جائے ۔
(6 )بعض لوگ گھر کی باہری دىوار کے ساتھ کىارى بناتے اور اس مىں پودے لگاتے ہىں ۔ بعض صورتوں میں اِس طرح کی کیاریاں بنانا منع ہے مثلاً گھر کے سامنے والی گلی یا سڑک پہلے ہی اتنی تنگ ہے کہ وہاں سے صرف ایک ہی گاڑی