Brailvi Books

نورِہدایت
28 - 31
 لَا تُرْجَعُوۡنَ ﴿۱۱۵﴾ ترجمۂ کنزالایمان: تو کیا یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بے کار بنایا اور تمہیں ہماری طرف پھرنا نہیں ۔ خزائنُ العرفان میں اس آیتِ مقدّسہ کے تحت لکھا ہے: اور (کیا تمہیں ) آخرت میں جزا کیلئے اٹھنا نہیں بلکہ تمہیں عبادت کیلئے پیدا کیا کہ تم پر عبادت لازم کریں اور آخرت میں تم ہماری طرف لوٹ کر آؤ تو تمہیں تمہارے اعمال کی جزا دیں ۔ موت وحیات کی پیدائش کا سبب بیان کرتے ہوئے پارہ 29 سورۃُالملک آیت نمبر2 میں ارشاد ہوتا ہے:
	الَّذِیۡ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ترجمۂ کنزالایمان: وہ جس نے موت اور زندگی پیدا کی کہ تمہاری جانچ ہو تم میں کس کا کام زیادہ اچھا ہے۔  مذکورہ دو آیات کے علاوہ بھی قراٰ نِ پاک میں دیگر مقامات پر تخلیق انسانی یعنی انسان کی پیدائش کا مقصد بیان کیاگیا ہے۔ انسان کو اس دنیا میں بہت مختصر سے وقت کیلئے رہنا ہے اور اس وقفے میں اسے قبر و حشر کے طویل ترین معاملات کیلئے تیاری کرنی ہے لہٰذا انسان کا وقت بے حد قیمتی ہے۔ وقت ایک تیز رفتار گاڑی کی طرح فَرّاٹے بھرتا ہوا جارہا ہے نہ روکے رُکتا ہے نہ پکڑنے سے ہاتھ آتا ہے، جو سانس ایک بار لے لیا وہ پلٹ کر نہیں آتا۔ (انمول ہیرے، ص3تا5 ملتقطاً) 
مجلس اَ لْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیّہ {دعوتِ اسلامی}شعبہ امیرِاَہلسنّت
۶۲محرم الحرام۱۴۳۷؁ھ بمطابق5 نومبر 2015؁ء