روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ جب نجاشی نے وفات پائی تو ہم چرچہ کرتے تھے کہ ان کی قبر پر نور دیکھا جاتا رہتا ہے ۱؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ یعنی اصحمہ شاہ حبشہ جن کا لقب نجاشی تھا جب وہ وفات پا گئے تو عرصہ تک عام لوگوں نے آپ کی قبر پر ظاہر ظہور نور دیکھا،امیر علی نے حاشیہ اشعۃ اللمعات میں لکھا کہ یہ نور حضرت ام سلمہ اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے اپنے حبشہ کے قیام کے زمانہ میں اپنی آنکھوں سے دیکھا اور عام لوگوں نے بھی۔اس سے معلوم ہوا کہ کرامت بعد وفات بھی ظاہر ہوسکتی ہے بلکہ ہوتی ہے،کچھ عرصہ بعد یہ کرامت بند ہوگئی،صاحب دلائل خیرات شریف محمد سلیمان جزولی کی قبر سے عرصہ تک مشک خوشبو آتی رہی پھر ہلکی پڑ گی پھر بند ہوگئی۔(شرح دلائل)