| مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم |
روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن ابوبکر سے ۱؎ کہ صفہ والے مسکین والے لوگ تھے ۲؎ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے پاس دو آدمیوں کا کھانا ہو وہ تیسرے کو لے جائے اور جس کے پاس چار کا کھانا ہو وہ پانچویں کو یا چھٹے کو لے جاوے۳؎ اور حضرت ابوبکر تین شخص لائے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم دس حضرات لائے ۴؎ ابوبکر صدیق نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رات کا کھانا کھایا پھر کچھ ٹھہرے حتی کہ عشاء کی نماز پڑھ لی گئی آپ پھر لوٹ گئے پھر کچھ ٹھہرے حتی کہ عشاء کی نماز پڑھ لی گئی حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کا کھانا کھالیا ۵؎ پھر آپ آئے اس کے بعد رات کا مشیت الٰہی کے بقدر حصہ گزر گیا ان سے ان کی بیوی نے کہا کہ تمہیں تمہارے مہمانوں سے کس چیز نے روکا ۶؎ آپ نے کہا کیا تم نے انہیں کھانا نہیں کھلایا وہ بولیں کہ انہوں نے تمہارے آنے تک کھانے سے انکار کیا ۷؎ آپ ناراض ہوئے اور بولے خدا کی قسم میں یہ کبھی نہ کھاؤں گا۸؎ آپ کی بیوی نے قسم کھالی کہ وہ بھی نہ کھائیں گی اور مہمانوں نے قسم کھالی کہ وہ بھی نہ کھائیں گے ۹؎ جناب صدیق نے کہا کہ یہ قسم شیطان کی طرف سے ہوگئی آپ نے کھانا منگایا پھر کھایا پھر ان سب نے کھایا ۱۰؎ تووہ لوگ کوئی لقمہ نہ اٹھاتے تھے مگر اس کے نیچے سے اس سے زیادہ بڑھتا تھا ۱۱؎ آپ نے اپنی بیوی سے فرمایا کہ اے بنی فراس کی بہن ۱۲؎ یہ کیا وہ بولیں میری آنکھ کی ٹھنڈک کی قسم ۱۳؎ یہ کھانا پہلے سے تین گنا زیادہ ہے ۱۴؎ ان سب نے یہ کھانا کھایا اور اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا گیا کہا گیا ہے کہ حضور نے بھی اس میں سے کھایا ۱۵؎(مسلم،بخاری)اور حضرت عبداللہ ابن مسعود کی حدیث کہ ہم کھانے کی تسبیح سنتے تھے باب المجزات میں ذکر کردی گئی ۱۶؎
شرح
۱؎ حضرت عبدالرحمن جناب صدیق اکبر کے بڑے بیٹے اور جناب عائشہ صدیقہ کے سگے بھائی ہیں،ان دونوں کی والدہ جناب ام رومان ہیں،آپ کا نام پہلے عبدالکعبہ تھا،حدیبیہ کی سال اسلام لائے حضور انور نے ان کا نام عبدالرحمن رکھا۔(اشعہ و مرقات) ۲؎ صفہ کا ترجمہ ہے چبوترہ مسجد نبوی شریف کے متصل ایک چھتا ہوا چبوترہ بنایا گیا تھا جس میں وہ حضرات رہتے تھے جنہوں نے اپنے کو طلب علم اور خدمت دین کے لیے وقف کردیا تھا،یہ حضرات ستر تھے انہیں اصحاب صفہ کہتے تھے۔ان حضرات میں مشہور صحابہ کرام یہ ہیں ابو ذر غفاری،عمار ابن یاسر،سلمان فارسی،صہیب،بلال،ابوہریرہ،خباب ابن ارت،حذیفہ ابن یمان،ابو سعید خدری،بشیر ابن خصاصہ،ابو موہبہ وغیرہم رضی اللہ عنہم،انہیں حضرات کے متعلق یہ آیت کریمہ نازل ہوئی"وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیۡنَ یَدْعُوۡنَ رَبَّہُمۡ"الخ۔(مرقات) ۳؎ ان حضرات کا کھانا پینا مدینہ والوں کے ذمہ تھا،اب تک یہ ہی دستور چلا آرہا ہے کہ دینی علم کے طلباء مساجد میں رہتے ہیں اور مسلمان محلہ و الے ان کے مصارف برداشت کرتے ہیں اسی طرح دین چل رہا ہے اور چلتا رہے گا۔ ۴؎ یعنی آج واقعہ یہ ہوا کہ جناب ابوبکر صدیق تین طالب علم لائے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دس طلباء کو مہمان بنایا یہ لانا ہمیشہ کے لیے نہ تھا صرف رات کے لیے تھا۔بعض سخی مسلمان اپنے ہاں طالب علموں کا مستقل کھانا لگادیتے ہیں یہ ان کی ہمت ہے،سب سے بہتر صدقہ جاریہ یہ ہے کہ کسی کو اپنے خرچہ سے عالم بنایا جاوے جیسے امام اعظم نے امام ابویوسف کو اپنے خرچہ پر اپنی تعلیم سے جید عالم بلکہ امام مجتہد بنا دیا جن کا فیض تاقیامت رہے گا۔ ۵؎ یعنی حضرت ابوبکر صدیق عشاء کی نماز تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر شریف پر رہے،پھر حضور کے ساتھ نماز عشاء پڑھی پھر بعد عشاء حضور کے گھر لوٹ گئے اور بعد نماز عشاء حضور کے ساتھ کھانا کھایا اس میں رات کافی گزر گئی۔ادھر حضرت صدیق اکبر کے مہمان سارے گھر والے آپ کے منتظر رہے کسی نے کھانا نہیں کھایا،ان کاخیال تھا کہ جناب صدیق کے آنے پر سب مل کر کھائیں گے،صاحب خانہ کا انتظار سنت صحابہ ہے جیساکہ معلوم ہوا۔ ۶؎ یعنی تمہارے دیر سے آنے سے تمہارے مہمانوں کو تکلیف ہوئی وہ اب تک بھوکے ہیں تم بہت دیر سے آئے،ایسی باتیں ہوا ہی کرتی ہیں اس میں بے ادبی یا گستاخی کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ ۷؎ آپ نے سوال کیا کہ تم نے مہمانوں کو میرے بغیر ہی کیوں کھانا نہیں کھلادیا،انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے کھانا پیش کیا تھا مگر مہمانوں نے کہا کہ ہم جناب صدیق اکبر کے ساتھ ہی کھائیں گے،اس زمانہ میں قاعدہ تھا کہ مہمان میزبان مل کر کھانا کھاتے تھے اب بھی عرب میں یہ ہی دستور ہے۔ ۸؎ جناب صدیق اکبر کو خیال ہوا کہ ہمارے گھر والوں نے مہمانوں سے یوں ہی رسمًا کھانے کے لیے کہا ہوگا اصرار نہیں کیا ہوگا ورنہ وہ ضرور کھالیتے اس لیے آ پ گھر والوں پر ناراض ہوئے اورکھانا نہ کھانے کی قسم کھالی۔(مرقات) ۹؎ بی بی صاحبہ کا نہ کھانے کی قسم کھالینا اس لیے تھا کہ خاوند کے بغیر بیوی کھانا کھالینا معیوب سمجھتی ہیں یعنی اگر آپ بھوکے رہیں گے تو میں بھی بھوکی رہوں گی۔مہمانوں نے خیال کیا کہ ہماری وجہ سے یہ آپس کی شکر رنجی ہوئی تو وہ بولے ہم بھی نہیں کھائیں گے ہم لوگ اس خانہ جنگی کا باعث بنے۔مطلب یہ ہے کہ آپ لوگ پہلے آپس میں صلح کریں پھر ہم کھانا کھائیں گے۔ ۱۰؎ اہلِ عرب خصوصًا مسلمان مدینہ اپنے مہمانوں کا بڑا احترام کرتے تھے اور کرتے ہیں انکی ہر ضد پوری کرتے ہیں اس لیے آپ نے اپنے مہمانوں کی خاطر اپنی قسم توڑ دی،اب بھی مہمان کی خاطر نفلی روزہ توڑ دینا جائز ہے جب کہ مہمان روزے دار میزبان کے بغیر کھانا نہ کھائے،یوں ہی اگر مہمان روزہ دار ہو اور میزبان کھانے کی ضد کرے تو مہمان نفلی روزہ توڑ سکتا ہے مگر قضا واجب ہوگی۔ ۱۱؎ یہ ہوئی جناب صدیق اکبر کی کرامت یعنی خود آپ اور آپ کے مہمان بلکہ سب گھر والے جب ایک لقمہ برتن سے اٹھاتے تو اس جگہ پیالہ میں نیچے سے کھانا اور نمودار ہوجاتا جو اٹھائے ہوئے لقمہ سے زیادہ ہوتا سبحان الله! کرامت معجزے کی قسم سے ہے کہ کھانے کی برکت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ بھی ہے حضرت صدیق اکبر کی کرامت بھی ۔ ۱۲؎ آپ کی بیوی صاحبہ کا نام ام رومان ہے،آپ قبیلہ بنی فراس سے تھیں اس لیے جناب صدیق نے انہیں اخت بنی فراس فرمایا یعنی اس قبیلہ والوں کی بہن۔ ۱۳؎ قرۃ عینی یعنی آنکھوں کی ٹھنڈک سے مراد حضور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی جو میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں۔(اشعہ) ۱۴؎ یعنی یہ کھانا کھاچکنے کے بعد پہلے سے تین گنا زیادہ ہوگیا یہ فقط اندازہ ہے۔ ۱۵؎ سبحان الله! کیسا مبارک کھانا تھا کہ اسے جناب صدیق اکبر ان کے گھر والوں انکے مہمانوں نے بھی کھایا اور آخر میں خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھایا وہ کھانا تو مبارک در مبارک ہوگیا۔ ۱۶؎ یعنی وہ حدیث مصابیح میں یہاں تھی مگر ہم نے مناسبت کے لحاظ سے باب المعجزات میں بیان کردی۔