Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم
163 - 952
حدیث نمبر163
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ میرے والد کی وفات ہوئی ۱؎  ان پر قرض تھا میں نے انکے قرض خواہوں سے درخواست کی وہ اپنے قرض کی عوض موجودہ چھوارے لے لیں ۲؎  انہوں نے انکار کیا ۳؎ تو میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا میں نے عرض کیا کہ حضور جانتے ہیں کہ میرے والد احد کے دن شہید ہوگئے اور بہت سا قرض چھوڑ گئے ہیں،میں چاہتا ہوں کہ آپ کو قرض خواہ دیکھیں۴؎ فرمایا جاؤ ہر قسم کے چھواروں کا ایک ایک طرف ڈھیر لگادو ۵؎ میں نے یہ کام کردیا پھر میں نے حضور کو بلایا جب قرض خواہوں نے حضور کو دیکھا تو شاید وہ اس گھڑی مجھ پر بھڑک گئے ۶؎ پھر جب حضور نے ان لوگوں کا یہ عمل دیکھا تو ان میں سے بڑے ڈھیر کے آس پاس تین چکر گھومے ۷؎ پھر اس پر بیٹھ گئے ۸؎ پھر فرمایا اپنے قرض خواہوں کو ہمارے سامنے بلاؤ پھر آپ ناپ کراتے رہے ان سب کے لیے حتی کہ اﷲ نے میرے باپ کا سارا قرضہ ادا کردیا ۹؎ میں اس پر راضی تھا کہ اﷲ میرے والد کا قرض ادا کردے میں اپنی بہنوں کو ایک چھوارا بھی نہ پہنچاؤ ں ۱۰؎ مگر اﷲ نے سارے ڈھیر سلامت رکھے اور حتی کہ میں اس ڈھیر کو دیکھتا تھا جس پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم تھے گویااس میں سے ایک چھوارا بھی کم نہیں ہوا ۱۱؎(بخاری)
شرح
۱؎ وفات سے مراد شہادت کی موت ہے کیونکہ حضرت جابر کے والد عبداﷲ غزوہ احد شہید ہوئے ہیں جیسا کہ آگے آرہا ہے۔وفات کے معنی ہیں پورا کرنا کافر کی موت سے اس کی ڈھیل و مہلت کی گھڑیاں پوری ہوتی ہیں وہ پکڑ میں آتا ہے،مؤمن کی موت سے اس کی کام کی گھڑیاں پوری ہوتی ہیں آرام و انعام شروع ہوتا ہے، اﷲ والوں کی موت سے ان کی انتظار کی گھڑیاں پوری ہوتی ہیں انہیں وصال یار نصیب ہوتا ہے اس لیے ان کی وفات کو وصال یا عرس کہتے ہیں۔

 ۲؎ یعنی باغ میں جس قدر چھوارے پیدا ہوں وہ وصول کرلیں باقی قرضہ معاف کردیں ان پر قرضہ بہت زیادہ تھا اور موجودہ پھل بہت تھوڑے۔

۳؎  یہ قرض خواہ سارے یہودی تھے بھلا یہود میں اتنا حوصلہ کہاں سے آیا۔(مرقات)انہوں نے کہا کہ ہم چند سال تک تمہارے باغ کی ساری پیداوار وصول کرتے رہیں گے اپنا قرض پورا وصول کریں گے۔

۴؎ ممکن ہے کہ یہود مدینہ آپ کو دیکھ کر کچھ غیرت کریں اور موجودہ پیداوار لے کر بقیہ قرض معاف کردیں۔معلوم ہوا کہ قرض کی معافی میں کوشش کرنا بحالت مجبوری جائز ہے۔

۵؎  مدینہ منورہ میں قریبًا اسی۸۰ قسم کی کھجوریں ہوتی ہیں۔آپ کے باغ میں بہت قسم کی کھجوریں تھیں فرمایا ہر کھجور کا علیحدہ ڈھیر لگادو تاکہ ادا قرض میں آسانی ہو اور بعد میں چھانٹنے میں دیر نہ لگے اور ہر قرض خواہ کو اس کے قرض کی کھجوریں دی جائیں۔

۶؎ اغروابی کے بہت معنی کیے گئے ہیں مرقات نے بھڑکنے کے معنی کیے یعنی مجھ پر ان کا غصہ تیز ہوگیا وہ سمجھے کہ یہ قرض تو ادا کرتے نہیں سفارش لا کر ہمارا نقصان کرنا چاہتے ہیں۔

 ۷؎ حضور انور کا اس بڑے ڈھیر کے گرد تین بار چکر لگانا اس میں برکت و فیض دینے کے لیے تھا تاکہ ہر طرف اس میں برکت پہنچے یہ شرعی طواف نہیں وہ تو عبادت ہے اور سوائے کعبہ معظمہ کے کسی کا شرعی طواف جائز نہیں، بعض لوگ برکت حاصل کرنے کے لیے بزرگ کی قبر کے اردگرد گھومتے ہیں۔بعض لوگ اس قبر کے تعویذ پر پانی کا برتن گھماتے ہیں برکت کے لیے ان دونوں کاموں کا ماخذ یہ حدیث ہے یہ عمل شرک نہیں۔مگر عوام مسلمانوں کے سامنے یہ کام نہ کرے کہ لوگ شرعی طواف اور اس طواف میں فرق نہ کریں گے قبر کا طواف ہی شروع کردیں گے اس کا خیال رہے۔

۸؎  حضور انور کا اس ڈھیر پر بیٹھنا برکت لازم کردینے کے لیے تھا۔بعض لوگ بزرگوں کو اپنے گھر بلاتے ہیں ان کی تشریف آوری کو برکت کا باعث سمجھتے ہیں ان کے بیٹھنے کی جگہ کو مبارک سمجھتے ہیں ان کی دلیل یہ حدیث ہے، اﷲ کے مقبول بندوں کے قدم میں برکت ہے"وَجَعَلَنِیۡ مُبَارَکًا اَیۡنَ مَا کُنۡتُ"۔دعائے درویشاں رد بلا قدم درویشاں رحمت خدا صحابہ کرام حضور انور سے اپنے گھروں میں دو رکعت نفل پڑھواتے اور اس جگہ کو مصلی بنا لیتے تھے۔

۹؎  ایک ڈھیر سے ہی سارا قرضہ ادا ہوگیا دوسرے ڈھیروں کی نوبت ہی نہ آئی اور اس ڈھیر میں سے ایک کھجور بھی کم نہ ہوئی ویسا کا ویسا ہی رہا یہ ہے حضور کے قدم شریف کی برکت۔

۱۰؎  یہ کھجوریں اتنی تھیں ہی نہیں کہ ان سے قرضہ پورا ادا ہوتا اس لیے یہ میری تمنا تھی۔معلوم ہوا کہ سعادت مند بیٹا وہ ہے جو باپ کے بعد اس کا قرض ادا کرے یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابیت،جہاد،شہادت سب مل کر بھی حق العبد معاف نہیں کراتیں وہ تو ادا کرنا ہی ہوگا افسوس کہ آج ہم لوگ حقوق العباد مار لینے میں بڑے بہادر ہیں۔

۱۱؎  خیال رہے کہ ان قرض خواہوں کی حضرت عبداﷲ پر مختلف قسم کی کھجوریں قرض تھیں کسی کی عجوہ تھیں کسی کی صفاوی کسی کی برنی تھیں حضور انور نے ان سب کو اعلیٰ درجہ کی کھجوریں ادا کیں یہ ڈھیر بڑا بھی تھا اور اعلیٰ درجہ کا بھی اعلیٰ درجہ سے قرض ادا کرنا سنت ہے اس لیے حضور انور نے ہر قسم کی کھجور کے الگ ڈھیر لگوائے تھے تاکہ ہر قرض خواہ کو اس کی قرض کی کھجوریں دی جاویں مگر سب کو اعلیٰ ہی ملیں۔
Flag Counter