| مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم |
روایت ہے حضرت انس سے کہ ایک بار اہلِ مدینہ گھبرا گئے ۱؎ تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم ابو طلحہ کے سُست گھوڑے پر سوار ہوئے اور وہ اڑتا بھی تھا۲؎ جب حضور لوٹے تو فرمایا کہ ہم نے تمہارے اس گھوڑے کو دریا پایا۳؎ پھر اس کے بعد وہ گھوڑا نہیں مقابلہ کیا جاتا تھا اور ایک روایت میں ہے کہ اس دن کے بعد کبھی پیچھے نہ رہا ۴؎(بخاری)
شرح
۱؎ یعنی مدینہ والوں میں شور مچ گیا کہ دشمن آگیا خیال ہوا کہ غپان اپنی شامی فوج لے کر مدینہ پر ٹوٹ پڑا اس خیال سے ایک دم گھبراہٹ ہوگئی۔(اشعہ وحاشیہ) ۲؎ کان یقطف یا تو بطیئا کا بیان ہے یعنی وہ گھوڑا قریب قریب قدم رکھتا تھا یا بمعنی اڑیل ہے کہ وہ بمشکل قدم اٹھاتا تھایعنی سست رفتار بھی تھا اور اڑیل بھی۔ ۳؎ یعنی یہ گھوڑا دریا کی طرح تیز رفتار بھی ہے اور سبک رفتار بھی کہ سوار کو اس کی رفتار سے کوئی تکلیف نہیں پہنچتی۔معلوم ہوا جس پر حضور کا قدم پہنچ جاوے وہ سست ہو تو تیز ہوجاتا ہے۔ ۴؎ یعنی حضور انور کا یہ فیض اس گھوڑے پر وقتی نہ تھا بلکہ دائمی ہوا کہ آئندہ تاحین حیات وہ گھوڑا کبھی کسی گھوڑے سے پیچھے نہ رہا۔سب سے آگے ہی رہتا تھا۔