Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم
134 - 952
حدیث نمبر134
روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ابو رافع کی طرف ایک جماعت بھیجی ۱؎  تو اس پر عبداﷲ ابن عتیک رات میں اس کے گھر میں گھس گئے وہ سورہا تھا ۲؎  آپ نے اسے قتل کردیا، عبداﷲ ابن عتیک کہتے ہیں کہ میں نے اس کے پیٹ میں تلوار رکھی حتی کہ وہ اس کی پیٹھ میں گزرگئی۳؎ میں سمجھ گیا کہ میں نے اسے قتل کردیا پھر میں دروازے کھولنے لگا حتی کہ میں آخری سیڑھی تک پہنچ گیا۴؎  میں نے اپنا پاؤ ں رکھا تو میں چاندنی رات میں گر گیا میری پنڈلی ٹوٹ گئی ۵؎  میں نے پگڑی سے اس کی پٹی باندھ دی پھر میں اپنے ساتھیوں کی طرف چلا پھر میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم تک پہنچا تو میں نے آپ کو خبر دی تو فرمایا اپنا پاؤ ں پھیلاؤ میں نے اپنے پاؤ ں پھیلایا،آپ نے اس پر ہاتھ پھیرا تو گویا میں نے کبھی اس کی شکایت نہ کی تھی ۶؎(بخاری)
شرح
۱؎  ابو رافع کا نام ابو حقیق تھا،مدینہ منورہ کا بڑا دولتمند یہودی تھا،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا بدترین دشمن ہمیشہ حضور کی شان میں بدترین گستاخیاں کرتا تھا اور حضور کے دشمنوں کو پناہ دیتا تھا،اپنے قلعہ میں حضور انور اور اسلام کے خلاف سازشیں کرتا تھا،اس کا ایک بڑا مضبوط قلعہ تھا جہاں یہ بالاخانہ پر رہا کرتا تھا،حضور انور نے اس کے قتل کے لیے کچھ آدمی بھیجے۔رھط وہ جماعت ہے جو دس سے کم ہو۔

۲؎  یہ پورا واقعہ بخاری وغیرہ میں بہت تفصیل سے آیا ہے حضرت عبداﷲ ابن عتیک چاندنی رات ہی اپنی جماعت کو باہر چھوڑکر ایک حیلہ سے اکیلے اس کے بالاخانہ پر چڑھ گئے،وہاں بہت لوگ سورہے تھے پہچان نہ سکے کہ ابو رافع کون ہے اسے آہستہ سے آواز دی ابو رافع،وہ نیند کی غشی میں بول پڑا ہوں،اس ہوں کی آواز کی رہبری میں آپ اس کے بستر تک پہنچ گئے۔

۳؎  یہ واقعہ دوسری بار کا ہوا،پہلی بار آپ نے اس کے پیٹ میں تلوار گھونپی اور لوٹے پھر خیال آیا کہ شاید مرا نہیں پھر لوٹے اور بولے ابو رافع کیا ہوا تب وہ چیخا کہ مجھے کوئی مار گیا تب آپ نے وہ عمل کیا جو یہاں مذکور ہے۔

۴؎  ابو رافع کے محل کے بہت دروازے تھے آپ نے جاتے وقت وہ تمام دروازے اندر سے بند کرلیے تھے تاکہ وقت پر باہر سے اس کو مدد نہ پہنچ سکے اب واپسی میں وہ دروازے کھولتے گئے اترتے گئے،دروازوں کا سلسلہ دور تک تھا آخری سیڑھی پر پہنچ کر سمجھے کہ زمین آگئی لیکن ابھی ایک سیڑھی باقی تھی۔

۵؎  یعنی چونکہ میرا پاؤ ں غلط پڑا میں سمجھا کہ زمین پر پاؤ ں رکھ رہا ہوں میں بے ڈھب گرا اور پنڈلی کی ہڈی ٹوٹ گئی اس زمانہ میں اس کا کوئی علاج ہی نہ تھا۔

۶؎  یعنی گویا میری پنڈلی میں کبھی یہ بیماری نہ ہوئی تھی۔بعض علماء سے سنا گیا کہ اس پنڈلی میں طاقت دوسری پنڈلی سے زیادہ ہوگئی تھی۔حضور کے لعاب میں بہت معجزات تھے: یہاں تو وہ(۱)لعاب ہڈی کا سریش بن گئی(۲)معاذ ابن عفراء کے کٹے ہوئے بازو میں لگا تو بازو جوڑ دیا(۳)حضرت علی کی دُکھتی ہوئی آنکھ میں لگا تو ممیرے کا کام دیا(۴)حضرت طلحہ و(۵)جابر کے گھر ہانڈی و آٹے میں پڑ گیا تو ان میں ایسی برکت ہوئی کہ چار سیر جو سے سینکڑوں آدمی سیر ہوگئے(۶)حدیبیہ کے کنویں میں پڑا تو اس کا تھوڑا پانی زیادہ ہوگیا(۷)کھاری کنوؤ ں میں پڑا تو کنویں میٹھے ہوگئے(۸)حضرت صدیق کو سانپ نے کاٹا وہاں یہ لعاب لگا تو زہر کا تریاق بن گیا(۹)چاہ زمزم میں لعاب شریف پڑا تو وہ تاقیامت ہر مرض کی شفا بن گیا(۱۰)ایک عیسائی قوم مسلمان ہوئی تو ان کے لیے ایک مشکیزے میں کلی کر کے پانی بھردیا فرمایا اپنے گرجے کی زمین پر چھڑک دو جگہ طاہر طیب عظمت والی ہوجائے وہاں مطہر بن گیا۔
Flag Counter