| مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ اس درمیان کہ ایک مسلمان آدمی اس دن ایک مشرک آدمی کے پیچھے دوڑ رہا تھا ۱؎ جو اس سے آگے تھا کہ ناگاہ اس نے اس کافر کے اوپر کوڑے کی مار اور سوار کی آواز سنی جو کہہ رہا تھا اے حیزوم آگے بڑھ ۲؎ کہ اس نے سامنے اس مشرک کو دیکھا جو مرا پڑا تھا۳؎ اس نے اس مشرک میں غور کیا تو اس کی ناک پر نشان لگ گیا تھا۴؎ اور اس کا چہرہ چر گیا تھا کوڑے کی مار کی طرح وہ کافر سارا کا سارا سبز ہوگیا تھا ۵؎ پھر انصاری آیا اس نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو خبر دی آپ نے فرمایا تم نے سچ کہا یہ تیسرے آسمان کی مدد میں سے ہے ۶؎ چنانچہ اس دن غازیوں نے ستر کافروں کو قتل کیا ستر کو قید کیا ۷؎(مسلم)
شرح
۱؎ یعنی غزوہ بدر کے دن جب کفار مکہ میں بھاگڑ پڑ گئی تو اس دوران مسلمان ان کا پیچھا کر رہے تھے کہ ایک انصاری کا واقعہ یہ ہوا۔ ۲؎ یعنی اس پیچھا کرنے والے انصاری نے اپنے آگے دو آوازیں سنیں ایک تو کوڑے کی آواز جوکسی جانور پر پڑے دوسرے سوار کی آواز جو جانور کو دوڑانے کے لیے اسے آواز دے مگر ان دونوں آوازوں کے ساتھ دیکھی کوئی چیز نہیں اس سے ان صحابی کو سخت تعجب ہوا،نیز یہ بھی نہ سمجھے کہ حیزوم کیا چیز ہے جسے آگے بڑھایا جارہا ہے۔ ۳؎ یعنی یہ انصاری اس کافر تک پہنچے ابھی اسکو تلوار نہیں ماری تھی کہ دیکھا کہ وہ سامنے مرا پڑا ہے،انہیں دوسری حیرت یہ ہوئی کہ اس قتل کا فاعل کہاں ہے اور اس مقتول کا قاتل کون ہے۔ ۴؎ خطم بنا ہے خطام سے بمعنی ناک پر نشان یعنی اس مقتول کی ناک پر ایسا نشان تھا جیسے کسی نے اس پر کوڑا مارا ہے، رب تعالٰی فرماتاہے:"سَنَسِمُہٗ عَلَی الْخُرْطُوۡمِ"ہم اس کی تھوتھنی(بوتھی)پر نشان لگادیں گے۔ ۵؎ یہاں مرقات نے فرمایا کہ سبزی سے مراد ہے سیاہی یعنی وہ کافر تھا تو گورا چٹا مگر بعد قتل اس کا سارا جسم کالا ہوگیا تھا اور ہوسکتا ہے کہ اس سے سبزی ہی مراد ہو جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ غیبی کوڑا زہریلا تھا،زہر سے مقتول کا رنگ ہرا ہوجاتا ہے۔ ۶؎ یعنی غزوہ بدر میں ہر آسمان سے فرشتے مسلمان کی مدد کے لیے آئے ہیں تم نے جس فرشتے کی مدد محسوس کی یہ تیسرے آسمان کا فرشتہ تھا۔سبحان اﷲ! یہ ہے حضور انور کا غیب کہ ہر غیبی فرشتہ کو بھی پہچانتے ہیں اس کا ٹھکانہ بھی جانتے ہیں کہ کس آسمان کا فرشتہ ہے۔اس حدیث میں ایک صحابی کی کرامت کا ذکر بھی ہے یعنی فرشتہ کی آواز سن لینا اور ان کی مدد کے لیے فرشتہ کا آنا اور امتی کی کرامت نبی کا معجزہ ہوتی ہے اس لیے یہ حدیث باب المعجزات میں لائے۔ ۷؎ یہ قتل و قید حضور انور کا معجزہ تھا ورنہ تہائی سے بھی کم جماعت وہ بھی بے ہتھیار اپنے سے تگنے سے زیادہ مسلح لشکر پر کیسے غالب آسکتی ہے۔خیال رہے کہ مکہ معظمہ کے کفار جنگ آزمودہ لوگ تھے،مدینہ منورہ کے اکثر غازی جنگ سے ناواقف تھے، بعض بالکل نو عمر تھے حتی کہ ابوجہل کو ایسے چھوٹے بچوں نے مارا ہے کہ آج تک دنیا حیران ہے پھر ان بچوں کا ان کاکفار کی صفوں میں اسے مارنا بغیر تائید غیبی کے ناممکن ہے بات یہ تھی ؎ نہ تیغ و تیر پر تکیہ نہ خنجر پر نہ بھالے پر بھروسہ ان کا تھا سادہ سی کالی کملی والے پر