Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 11:نام کیسے رکھے جائیں ؟
41 - 43
اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ یعنی اےاللہعَزَّوَجَلَّتیری ذات پاک ہےاور  تیرے لیے ہی تمام خوبیاں ہیں،تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے بخشش چاہتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں۔(۱)
اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ! دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماعات اور ذِمّہ داران کے مَدَنی مشوروں کے اختتام پر یہ دُعا پڑھائی جاتی ہے۔ 

سب سے زیادہ پیارے نام
حدیثِ پاک میں ہے :اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمہارے ناموں میں سب سے زیادہ پیارے نام عبدُاللہ وعبدالرحمٰن ہیں۔( مسلم،ص۱۱۷۸،حدیث:۲۱۳۲)اس(حدیثِ پاک ) کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اپنا نام عبد کے ساتھ رکھنا چاہتا ہو تو سب سے بہتر عبدُاللہ و عبدالرحمٰن ہیں، وہ نام نہ رکھے جائیں جو جاہلیت میں رکھے جا تے تھے کہ کسی کا نام عبد شمس اور کسی کا عبدالدار ہوتا۔لہٰذا یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ یہ دونوں نام ”مُحَمَّد و اَحْمَد“ سے بھی افضل ہیں کیونکہ حضور اکرمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکے اسم پاک ”مُحَمَّد و اَحْمَد“ ہیں اور ظاہر یہی ہے کہ یہ دونوں نام خود اللہتعالیٰ نے اپنے محبوبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکے لیے منتخب فرمائے، اگر یہ دونوں نام خدا کے نزدیک بہت پیارے نہ ہوتے تو اپنے محبوب کے لیے پسند نہ فرمایا ہوتا۔(بہارِ شریعت ،۳/۶۰۱،حصہ:۱۶)

مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
۱… ابوداود،کتاب الادب،باب فی کفارة المجلس،۴/۳۴۷،حدیث:۴۸۵۷