جواب: مالِ ترکہ میں تمام ورثاء بطورِ شرکت ِملک شریک ہیں تمام ورثاء کی اجازت سے کاروبار سنبھالنے کی صورت میں ہر وارث اپنے حصہ کے مطابق کاروبار کے نفع ونقصان کا حقدار ہوگا اور اگر بعض ورثاء نے دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر کاروبار سنبھالا اور مزید آگے بڑھا یا تو اصل مال جو کہ میت کے انتقال کے وقت کاروبار میں تھا اس میں توہر وارث اپنے حصہ کی مقدار کا مالک ہوگا لیکن اس مال سے حاصل ہونے والے نفع کے بارے میں حکمِ شرعی یہ ہے کہ اس نفع میں دیگر ورثاء شریک نہیں ہوں گے بلکہ یہ نفع صرف انہی افراد کا ہے جنہوں نے کاروبار بڑھا کر نفع حاصل کیا البتہ انکے لئے صرف اپنے حصہ کے مطابق نفع لینا حلال ہے اور دیگر ورثاء کے حصوں کے مطابق حاصل شدہ نفع انکے حق میں مالِ خبیث ہے انہیں چاہئے کہ اپنے حصوں سے زائد نفع دیگر ورثاء کو انکے حصوں کے مطابق دیں یا خیرات کریں اپنے خرچ میں نہ لائیں ، یہی حکم متروکہ جائیداد وغیرہ کے کرایوں کا بھی ہے۔(1)
تَــمَّــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــتْ بِالْخَیْــــــــــــــــــــــــــــــــــــــر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1 …فتاویٰ رضویہ ، ۲۶/۱۳۱،ملخصاً۔