Brailvi Books

خُلَاصَۃُ النَّحْو
86 - 107
ہیں : أَلَّفَہٗ الشَیْخُ عَبْدُ الْقَاہِرِ بْنُ عَبْدِ الرَحْمٰنِ الْجُرْجَانِيُّ۔
	.13 متعددکے بعد اس کی تفصیل آرہی ہو تو  تفصیل میں مذکور اشیاء کو تین طرح پڑھنا جائز ہوتاہے:  ۱۔مبدل منہ کے مطابق۔ ۲۔مبتدا محذوف کی خبر ہونے کی بناء پر مرفوع۔ ۳۔أَعْنِيْ  فعل محذوف کا مفعول بہ ہونے کی وجہ سے منصوب : جَاءَ رَجُلَانِ زَیْدٌ وَبَکْرٌ۔
	.14جملے کے درمیان آنیوالے معترضہ جملوں  کی ترکیب الگ سے کرتے ہیں۔
	.15قاعدہ وغیرہ سمجھانے کے لئےمِثْلُ۔۔الخ، نَحْوُ۔۔الخسے مثال بیان کی جاتی ہے، اس میں  نَحْوُ، مِثْلُ  کومضاف اورمبتدا محذوف (مِثَالُہٗ)کی خبر، مبتدا  خبر کو جملہ اسمیہ خبریہ اور مابعد پورے جملے کو مراد اللفظ کہ کر مضاف الیہ بناتے ہیں۔
	 .16لفظ ایک حرف پر مشتمل ہوتو اسے باسمہ تعبیر کریں گے ورنہ بلفظہ: مَا نَصَرْتُہٗ  میں  : مَا  حرفِ نفی،      نَصَرَ فعل ماضی، تاء فاعل، ہاء مفعول (نہ کہ: تُ فاعل، ہٗ     مفعول)
٭٭٭٭٭٭٭
تمرین  (1)
	س:.1فعل ناقص، فعل مقاربہ،فعل مدح وذم، فعل تعجب اور اسم فعل اپنے فاعل  یااسم وغیرہ سے مل کر کونسا جملہ بنتے ہیں ؟ س:.2ضمیرمرفوع متصل، جار مجرور، اسم اشارہ ،مشار الیہ اور متعدد کی تفصیل کو ترکیب میں  کیا بناتے ہیں ؟ 
تمرین  (2)
غلطی کی نشاندہی کیجیے۔ .1ضمیر مرفوع متصل ہمیشہ فاعل بنتی ہے۔  .2فعل ناقص اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ اسمیہ انشائیہ بنتاہے۔