الدرس الثالث والسبعون
تضمین کا بیان
ایک لفظ میں دوسرے لفظ کا معنی ملادینا تضمین کہلاتاہے: فَلْیَحْذَرِ الَّذِیۡنَ یُخَالِفُوۡنَ عَنْ اَمْرِہٖۤ۔یہاں یُخَالِفُوۡنَ میں یَخْرُجُوْنَ کی تضمین ہے۔ (صل وغیرہ)
قواعد وفوائد:
.1جس فعل میں تضمین کی گئی ہو اس کا حکم(صلہ وغیرہ آنے میں ) وہی ہوگاجو فعل مُضمَّن کا ہے مثلًا یُخَالِفُوْنَکاصلہ عَنْ آیا ہے کیونکہ یَخْرُجُوْنَ کاصلہ عَنْہے۔
یونہیلَا تَعْزِمُوۡا عُقْدَۃَ النِّکَاحِ میں لَا تَعْزِمُوۡا بغیرعَلٰی کے متعدی ہے (حالانکہ یہ متعدی بَعَلیٰ ہوتاہے) کیونکہ فعل مُضمَّن لَاتَنْوُوْا بغیرعَلٰیکے متعدی ہے۔
اسی طرح لَاآلُوْکَ نُصْحًا میں لَاآلُوْکے دو مفعول ہیں (حالانکہ یہ اپنے معنی لَاأَقْصُرُ میں لازم ہے ) کیونکہ فعل مُضمَّن لَاأَمْنَعُمتعدی بدو مفعول ہے۔ (صل )
یونہی أَنْبَأَ، أَخْبَرَ بواسطہ حرف جرمتعدی بدو مفعول ہیں لیکن جب ان میں أَعَلَمَ کی تضمین ہوگی تو متعدی بسہ مفعول ہوجائیں گے کیونکہ أَعْلَمَ متعدی بسہ مفعول ہے۔
.2تضمین کا فائدہ یہ ہے کہ بظاہر ایک لفظ سے دو لفظوں کا معنی ادا ہوجاتاہے ۔
٭٭٭٭٭٭٭
1: ’’اطلق لہ العنان‘‘ کھلی چھوٹ دے دی، ڈھیل دے دی۔ اطلق زید العنان لاولادہ تتصرف کیف تشاء، زید نے اپنی اولاد کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے کہ جو چاہیں کریں۔ (عربی محاورات، ص۹۷)
2: ’’اغمض عینیہ عن۔۔۔‘‘ چشم پوشی کی، نظر انداز کیا۔ لا ینبغی ان نغمض اعیننا عن اخطاء نا، یہ مناسب نہیں ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کو نظر انداز کریں۔ (عربی محاورات، ص۹۸)