الدرس الثاني والسبعون
صلات کا بیان
جواسم بواسطہ حرف جر مفعول بہ بنے اُسے صلہ کہتے ہیں :غَضِبَ اللہُ عَلَیۡہِمْ۔ اسی طرح سات مخصوص حروفِ جارّہ(مِنْ، اِلٰی، عَنْ، عَلٰی، فِيْ، بَاءاور لَام) کوبھی صلہ کہتے ہیں مثلًا: یُؤْمِنُوۡنَ بِالْغَیۡبِمیں بَاء، یُؤْمِنُوْنَ کاصلہ ہے ۔ (صل )
صلات کے حقیقی و مجازی معانی نیزکونسا فعل کس صلے کے ساتھ کس معنی میں آتا ہے یہ سب معلوم ہونا لازم ہے یہاں اختصارًا اوّل کے بیان پر اکتفاکیا ہے (۳۲)۔
.1 مِنْ: اس کا معنی ابتدا ہے : سِرْتُ مِنَ الْبَصَرَۃِ اِلَی الْکُوْفَۃِ۔ علاوہ ازیں یہ اِن معانی میں آتاہے : ۲۔تبعیض: أَخَذْتُ مِنَ الدَرَاہِمِ۔ ۳۔تعلیل:مِمَّا خَطِیۡٓــٰٔتِہِمْ اُغْرِقُوۡا۔ ۴۔زائد:یَغْفِرْ لَکُمۡ مِّنۡ ذُنُوۡبِکُمْ۔ (صل وغیرہ)
.2 اِلَی: اس کا معنی انتہا ہے: وَاَیۡدِیَکُمْ اِلَی الْمَرَافِقِ۔ علاوہ ازیں یہ اِن معانی میں آتاہے : ۲۔مصاحبت:لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمْوٰلَہُمْ اِلٰۤی اَمْوٰلِکُمْ۔ ۳۔تبیین:رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ ۔ ۴۔بمعنی فِيْ : لَیَجْمَعَنَّکُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ ۔
.3 فِيْ: اس کا معنی ظرفیت ہے : اَلْمَالُ فِي الْکِیْسِ۔ علاوہ ازیں یہ اِن معانی میں آتاہے : ۲۔استعلاء: لَاُوصَلِّبَنَّکُمْ فِیۡ جُذُوۡعِ النَّخْلِ ۔ ۳۔سببیت:لَمَسَّکُمْ فِیۡمَاۤ اَخَذْتُمْ ۔ ۴۔مصاحبت:اُدْخُلُوۡا فِیۡۤ اُمَمٍ ۔ (صل وغیرہ)
.4 عَنْ: اس کا معنی مجاوزت ہے : رَمَیْتُ السَہْمَ عَنِ الْقَوْسِ۔ علاوہ ازیں یہ ان معانی میں آتاہے : ۲۔بمعنی باء:وَمَا یَنۡطِقُ عَنِ الْہَوٰی ۔ ۳۔تعلیل:وَمَا نَحْنُ