الدرس التاسع والستون
نسبت کابیان
کسی اسم کے آخر میں یائے نسبت (یاء مشدد ماقبل مکسور) لاحق کرنے کو نسبت اور جس اسم کو یائے نسبت لاحق ہو اسے اسم منسوب کہتے ہیں : یَمَنِيٌّ۔ (جد:۲/۷۱)
قواعد وفوائد:
.1اسم منسوب اسم مفعول کے حکم میں ہوتاہے اوراپنے نائب الفاعل کو رفع دیتا ہے: جَاءَ رَجُلٌ دِمَشْقِيٌّ، رَأَیْتُ رَجُلًا مِصْرِیًّا أَبُوْہٗ۔
.2آخرمیں گول تاء (ۃ)ہو تووہ حذف ہو جائے گی: فَاطِمَۃُ سے فَاطِمِيٌّ۔
.3ثلاثی اسم ٗمحذوف اللام ہوتولام کلمے کولوٹاکر(۲۵) عین کلمے کو فتحہ دیاجاتا ہے: أَبٌ، سَنَۃٌ، دَمٌ، لُغَۃٌسے أَبَوِيٌّ، سَنَوِيٌّ، دَمَوِيٌّ، لُغَوِيٌّ۔ (جد:۲/۷۴)
.4تثنیہ یاجمع کومفرد کی طرف لوٹانا واجب ہے (۲۶): قَلَمَانِ، مُسْلِمُوْنَ، فَرَائِضُ، تَمَرَاتٌسےقَلَمِيٌّ، مُسْلِمِيٌّ، فَرْضِيٌّ، تَمْرِيٌّ۔(جد:۲/۷۷)
.5ما قبل آخر یاء مشدد مکسور (ڈبل یاء جن میں پہلی ساکن اور دوسری مکسور) ہو تویاء مکسور حذف ہوجائے گی: طَیِّبٌ، مَیِّتٌسے طَیْبِيٌّ، مَیْتِيٌّ۔
.6آخرمیں یاء مشدد ہو، اس سے پہلے ایک حرف ہو تو پہلی یاء کو فتحہ دیکر دوسری کو واؤ سے بدلنا واجب ہے: حَيٌّسے حَیَوِيٌّ۔(پہلی یاء واو سے بدل کر آئی ہو تو واو سے بدل جائے گی: طَيٌّسے طَوَوِيٌّ) دوحروف ہوں توپہلی یاء کو حذف کرنا، اس کے ما قبل کو فتحہ دینا اور دوسری کو واؤ سے بدلنا واجب ہے: نَبِيٌّ سے نَبَوِيٌّ۔اور دو سے زائد