الدرس الستون
شر ط وجَزا کابَیان
کلمہ شرط جن دو جملوں پرداخل ہو اُن میں سے پہلے کوشرط اور دوسرے کو جزا کہتے ہیں شرط ہمیشہ جملہ فعلیہ ہوگی اورجزاکبھی جملہ فعلیہ اور کبھی جملہ اسمیہ ہوگی۔
شرط وجزا کے اَحکام:
.1شرط وجزادونوں مُضارِع ہوں تودونوں پرجزْم واجب ہے: اِنْ تُکْرِمْ تُکْرَمْ۔اوردونوں ماضی ہوں توان میں لفظًاکوئی تبدیلی نہیں ہوگی: مَنْ جَدَّ وَجَدَ۔
.2صرف شرط ‘ مضارع ہو توشرط پر جزْم واجب ہے : اِنْ تَصْبِرْ صَبَرْتُ۔اور صرف جزا مضارع ہو توجزا پرجزْم اور رفع دونوں جائز ہیں : اِنْ صَبَرْتَ تُوْجَرْ۔
.3چارصورتوں میں (۲۱)جزا پرفَ لانا واجب ہے: ۱۔جزا جملہ اسمیہ ہو: مَنْ أَسْلَمَ فَہُوَ مُفْلِحٌ۔ ۲۔جزا جملہ انشائیہ ہو: وَ اِنۡ کُنۡتُمْ جُنُبًا فَاطَّہَّرُوۡا۔ ۳۔ جزا فعل ماضی قَدْکے ساتھ ہو: مَنْ أَسْلَمَ فَقَدْ فَازَ۔ ۴۔جزا فعل مضارع لَنْ، سَیا سَوْفَکے ساتھ ہو: وَمَنۡ یَّلْعَنِ اللہُ فَلَنۡ تَجِدَ لَہٗ نَصِیۡرًا۔(بد:۴۰)
.4 دو صورتوں میں جزا پر فَ لانا جائز نہیں : ۱۔ جزا ماضی بغیرقَدْ کے ہو: اِنْ صُمْتَ نَجَحْتَ۔ ۲۔ جزا کے شروع میں لَمْ ہو: مَنْ یَکْذِبْ لَمْ یَنْجَحْ۔
.5دوصورتوں میں جزاپرفَ لانایانہ لانادونوں جائز ہیں :۱۔جزافعل مضارع مثبت ہو: اِنْ یَضْرِبْ فَأَضْرِبْ یا أَضْرِبْ۔ ۲۔جزا فعل مضارع منفی بذریعہلَا ہو: اِنْ یَضْرِبْ فَلا أَضْرِبْ یا لَاأَضْرِبْ۔(بد:۴۰ )