Brailvi Books

خُلَاصَۃُ النَّحْو
32 - 107
کے لیے آتاہے، یہ صرف کَلاَّہے: فُلانٌ یَبْغُضُکَکے جواب میں  یوں کہا جائے: کَلَّا (ہر گز نہیں ) یہ جملے کی تاکید کے لیے بھی آتا ہے: کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوۡنَ ۔
	.15حرفِ توقُّع: وہ حرف جو ما ضی کو حال کے قریب کردیتاہے اور تحقیق کا معنی بھی دیتا ہے یہ صرف قَدْ ہے: قَدْ رَکِبَ۔یہ مضارع کے ساتھ اکثر تقلیل کا اور کبھی تحقیق کا معنی دیتا ہے: اِنَّ الْکَذُوْبَ قَدْ یَصْدُقُ،قَدْ یَعْلَمُ اللہُ الْمُعَوِّقِیۡنَ مِنۡکُمْ۔
	.16حروف جواب: وہ حروف جو کسی سوال یا کسی خبرکا جواب دینے کے لیے آتے ہیں یہ چھ ہیں : نَعَمْ، بلٰی، اِيْ، جَیْرِ، أَجَلْ اور اِنَّ:
	اِيْ:جواب میں  قسم سے پہلے آتاہے: قُلْ اِیۡ وَرَبِّیۡۤ اِنَّہٗ لَحَقٌّ۔ جَیْرِ، أَجَلْ اور  اِنَّ:   خبر کی تصدیق کے لیے آتے ہیں  مثلًا اِس خبر: جَاءَ زَیْدٌکے جواب میں  جَیْرِ، أَجَلْیا اِنَّکہاجائے تو معنی ہوگا:  جی ہاں  زید آیا ہے۔ (ھد: ۲۵۳)
	.17حروف تنبیہ:یہ تین ہیں  : أَلَا، أَمَا اورھَا: أَلَا لَا تَغْفَلْ، أَمَا لَا تَکْذِبْ۔
	.18حروفِ زیادت: وہ حروف جنہیں  کلام سے نکال بھی دیاجائے تو اصل معنی میں  فرق نہ آئے،یہ آٹھ حروف ہیں : اِنْ، أَنْ، مَا، لَا، مِنْ، کَاف، بَاء، لام: مَا اِنْ زَیْدٌ قَائِمٌ،فَلَمَّاۤ اَنۡ جَآءَ الْبَشِیۡرُ،اِذَا مَا ابْتَلٰىہُ رَبُّہٗ،لَا فَارِضٌ وَّلَا بِکْرٌ،وَ تَقُوۡلُ ہَلْ مِنۡ مَّزِیۡدٍ،لَیۡسَ کَمِثْلِہٖ شَیۡءٌ،لَیۡسَ بِخَارِجٍ مِّنْہَا،رَدِفَ لَکُمۡ۔
	.19الف لام: اَلرَجُلُ، اَلْحَسَنُ۔(م: ۱۲۵)
٭٭٭٭٭٭٭