کے لیے آتاہے، یہ صرف کَلاَّہے: فُلانٌ یَبْغُضُکَکے جواب میں یوں کہا جائے: کَلَّا (ہر گز نہیں ) یہ جملے کی تاکید کے لیے بھی آتا ہے: کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوۡنَ ۔
.15حرفِ توقُّع: وہ حرف جو ما ضی کو حال کے قریب کردیتاہے اور تحقیق کا معنی بھی دیتا ہے یہ صرف قَدْ ہے: قَدْ رَکِبَ۔یہ مضارع کے ساتھ اکثر تقلیل کا اور کبھی تحقیق کا معنی دیتا ہے: اِنَّ الْکَذُوْبَ قَدْ یَصْدُقُ،قَدْ یَعْلَمُ اللہُ الْمُعَوِّقِیۡنَ مِنۡکُمْ۔
.16حروف جواب: وہ حروف جو کسی سوال یا کسی خبرکا جواب دینے کے لیے آتے ہیں یہ چھ ہیں : نَعَمْ، بلٰی، اِيْ، جَیْرِ، أَجَلْ اور اِنَّ:
اِيْ:جواب میں قسم سے پہلے آتاہے: قُلْ اِیۡ وَرَبِّیۡۤ اِنَّہٗ لَحَقٌّ۔ جَیْرِ، أَجَلْ اور اِنَّ: خبر کی تصدیق کے لیے آتے ہیں مثلًا اِس خبر: جَاءَ زَیْدٌکے جواب میں جَیْرِ، أَجَلْیا اِنَّکہاجائے تو معنی ہوگا: جی ہاں زید آیا ہے۔ (ھد: ۲۵۳)
.17حروف تنبیہ:یہ تین ہیں : أَلَا، أَمَا اورھَا: أَلَا لَا تَغْفَلْ، أَمَا لَا تَکْذِبْ۔
.18حروفِ زیادت: وہ حروف جنہیں کلام سے نکال بھی دیاجائے تو اصل معنی میں فرق نہ آئے،یہ آٹھ حروف ہیں : اِنْ، أَنْ، مَا، لَا، مِنْ، کَاف، بَاء، لام: مَا اِنْ زَیْدٌ قَائِمٌ،فَلَمَّاۤ اَنۡ جَآءَ الْبَشِیۡرُ،اِذَا مَا ابْتَلٰىہُ رَبُّہٗ،لَا فَارِضٌ وَّلَا بِکْرٌ،وَ تَقُوۡلُ ہَلْ مِنۡ مَّزِیۡدٍ،لَیۡسَ کَمِثْلِہٖ شَیۡءٌ،لَیۡسَ بِخَارِجٍ مِّنْہَا،رَدِفَ لَکُمۡ۔
.19الف لام: اَلرَجُلُ، اَلْحَسَنُ۔(م: ۱۲۵)
٭٭٭٭٭٭٭