Brailvi Books

خُلَاصَۃُ النَّحْو
21 - 107
الدرس التاسع والأربعون
اِضافت کا بیان
	اِضافت کی دو قسمیں  ہیں :  ۱۔اِضافتِ لفظیہ  ۲۔ اِضافتِ معنویہ۔
	جس اِضافت میں  صفَت کا صیغہ معمول (فاعل یا مفعول بہ)کی طرف مضاف ہو اُسے اِضافتِ لفظیہ یااِضافتِ مجازیہ کہتے ہیں : زَیْدٌ حَسَنُ الْوَجْہِ۔
	اورجس اِضافت میں  صفَت کا صیغہ معمول کی طرف مضاف نہ ہواُسے اِضافتِ معنویہ یااِضافتِ حقیقیہ کہتے ہیں : خَالِدٌ غُلامُ زَیْدٍ، بَکْرٌ کَاتِبُ الْقَاضِيْ۔
اضافت معنویہ کی تین اقسام ہیں (۹):
	.1اِضافت بمعنی فِيْ: وہ اِضافت جس میں  مضاف اِلیہ مضاف کے لیے ظرف ہو: صَلٰوۃُ اللَّیْلِ۔(اِس صورت میں  مضاف اِلیہ سے پہلے فِيْپوشیدہ ہوتا ہے)
	.2 اِضافت بمعنی مِنْ:  وہ اِضافت جس میں  مضاف اِلیہ مضاف کی جنس ہو: خَاتَمُ فِضَّۃٍ۔  (اِس صورت میں  مضاف اِلیہ سے پہلے مِنْپوشیدہ ہوتاہے)
	.3اِضافت بمعنی لام: وہ اِضافت جس میں  مضاف اِلیہ مضاف کیلئے نہ ظرف ہو نہ جنس : غُلامُ زَیْدٍ۔(اِس صورت میں  مضاف اِلیہ سے پہلے لامپوشیدہ ہوتا ہے)
قواعد وفوائد:
	.1اِضافتِ لفظیہ میں مضاف ‘تثنیہ یاجمع مذکر سالم کاصیغہ ہویامضاف اِلیہ معرَّف باللام ہوتومضاف پراَلْ  آسکتا ہے: جَاءَ الضَارِبَا وَلَدٍ، جَاءَ الضَارِبُ الْوَلَدِ۔(ض)
	.2اضافت لفظیہ کی وجہ سے مضاف معرفہ یا نکرہ مخصوصہ نہیں  بنتا(۱۰)۔