یکے وزن پر آتا ہے جبکہ اُس میں رنگ، حُلیہ یا ظاہری عیب والا معنی نہ ہو: زَیْدٌ أَبْلَدُ مِنْ خَالِدٍ۔(کا:۹۱)
.6غیر ثلاثی مجردفعل یا وہ ثلاثی مجرد فعل جس میں رنگ، حلیہ اورعیب کامعنی ہو اس سے اسم تفضیل بنانے کے لیے أَشَدُّ، أَکْثَرُوغیرہ لاتے ہیں پھر اس فعل کا مصدر منصوب ذکر کرتے ہیں : خَالِدٌ أَکْثَرُ اِکْرَامًا یا حُمْرَۃً یا عَرَجًا۔
.7خَیْرٌ، شَرٌّ اورحَبٌّ اسم تفضیل ہیں ، یہ اصل میں أَخْیَرُ، أَشَرُّاور أَحَبُّ ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭
تمرین (1)
س: .1اسم تفضیل، مفضل اور مفضل علیہ کسے کہتے ہیں ؟ س: .2اسم تفضیل کتنے اور کون کونسے طریقوں سے آتاہے؟ س: .3 اسم تفضیل أَلْ، مِنْ یا اضافت کے ساتھ ہو تو کس طرح آئے گا؟ س: .4 اسم تفضیل کس وزن پر آتا ہے ؟
تمرین (2)
غلطی کی نشاندہی کیجیے۔ .1جو اسم ایسی ذات پردلالت کرے جس میں معنی کی زیادتی ہو اُسے اسمِ تفضیل کہتے ہیں۔ .2جس ذات کے مقابلے میں معنی کی زیادتی ہو اُسے مُفَضَّلکہتے ہیں۔ .3اسم تفضیل ہمیشہ موصوف کے مطابق ہوگا۔
تمرین (3)
(الف) اسم تفضیل، مفضل اور مفضل علیہ الگ الگ کیجیے ۔
۱۔اَلْعِلْمُ أَنْفَعُ مِنَ الْمَالِ۔ ۲۔اَلنَّبِیُّ أَفْضَلُ مِنَ الْوَلِیِّ۔ ۳۔اَلْمُجْتَہِدُوْنَ أَنْبَلُ نَاسٍ۔ ۴۔ اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنۡدَ اللہِ اَتْقٰىکُمْ۔ ۵۔اَلْعَمَلُ خَیْرٌ مِنَ الْبَطَالَۃِ۔