تنبیہ: خیال رہے کہ یہاں قوت کی ترتیب یہ ہے: ۱۔کسرہ۔ ۲۔ضمہ۔ ۳۔فتحہ۔ ۴۔سکون۔ یعنی سب سے اقوی حرکت کسرہ ہے اور اس کا مناسب حرف یاء یا صرف شوشہ ہے۔ اس کے بعد ضمہ سب سے قوی حرکت ہے اور اس کا مناسب حرف واؤ ہے۔اس کے بعد فتحہ قوی حرکت ہے اور اس کا مناسب حرف الف ہے اورسب سے ہلکا سکون ہے۔
عربوں کا طریقہ تھا کہ سفر کے لیے اونٹ پر لکڑی کا ایک فریم کستے تھے اس کو پردوں سے ڈھک دیا جاتا تھاتاکہ سوار دھوپ کی تمازت اور اُڑتی ہوئی ریت (یہ دونوں چیزیں ریگستان کا لازمہ ہیں) سے محفوظ رہ سکے، اس کو عربی میں ’’رحلۃ‘‘ ’’ہودج‘‘اور’’محمل‘‘ اور اردو میں ’’کجاوہ‘‘ کہاجاتا ہے، اگر کوئی اونٹ پر کجاوہ باندھ رہا ہے اس کا مطلب ہے کہ وہ اب سفر کرنے والا ہے، لہذا یہیں سے محاورہ تشکیل پایا :’’شد الرحال‘‘ یعنی کجاوہ کسنا ،بہ الفاظ دگر سفر کا قصد کرنا،اب آپ ہوائی جہاز سے سفر کا ارادہ رکھتے ہوںیا ریل سے مگر یہی کہیں گے:’’شددت رحلتی الی۔۔‘‘ یعنی میں نے فلاں جگہ کے لیے کجاوہ کس لیا ہے، بہ الفاظ دگر فلاں جگہ کے سفر کا قصد کرلیا ہے۔
اگر کوئی شخص علم وفضل یا اور کسی بھی میدان میں ماہر اور مشہور ہو تو یقینی طور پر لوگ اس کے پاس دور دور سے اپنی حاجتیں لے کر آئیں گے، جب لوگ سفر کرکے آئیں گے تو لازمی طور پراونٹوں پر کجاوے کسے جائیں گے ، گویا کسی کے مشہور ہونے یا کسی میدان میں ماہرہونے کا لازمی نتیجہ ہے کہ اس کی جانب لوگ سفر کریں، یہیں سے اس محاورے نے ایک نیا رخ لیا: ’’تشد الیہ الرحال فی علومہ‘‘ اس کا لفظی ترجمہ یہ ہوگاکہ ’’ان کے علوم میں ان کی جانب کجاوے کسے جاتے ہیں‘‘، مجازی معنی ہوگا کہ وہ بہت مشہور ومعروف یا اپنے فن میں کامل وماہر ہے۔ (عربی محاورات، ص۵۸)