| خوف خدا عزوجل |
وفضل فرما اور ہمیں اپنی سخاوت سے مالا مال کردے ، یاارحم الراحمین ! میں نے گناہوں کی گٹھڑی تیرے سامنے رکھ دی ہے اور صدقِ دل سے تیرے سامنے حاضر ہوں ، اگر تو مجھے قبول نہیں کریگا تو میں ہلاک ہوجاؤں گا۔'' اتنا کہہ کر وہ نوجوان غش کھا کر گرا اور بے ہوش ہو گیا ۔ اور چند دن بسترِ علالت پر گزار کر انتقال کر گیا۔
اس کے جنازے میں کثیر لوگ شامل ہوئے اور رو رو کر اس کے لئے دعائیں کی گئیں ۔ حضرت سَیِّدُنا صالح مری رضي اللہ تعالي عنہ اکثر اس کا ذکر اپنے وعظ میں کیا کرتے ۔ ایک دن کسی نے اس نوجوان کو خواب میں دیکھا تو پوچھا،'' تمہارے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟''تو اس نے جواب دیا ، ''مجھے حضرت صالح مری رضي اللہ تعالي عنہ کی محفل سے برکتیں ملیں اور مجھے جنت میں داخل کر دیا گیا۔''(کتاب التوابین ، ص۲۵۱ )
(100) ( اللہ عزوجل دیکھ رہا ہے۔۔۔۔۔۔ )
ایک شخص کسی شامی عورت کے پیچھے لگ گیا اورایک مقام پراسے خنجر کے بل بوتے پر یرغمال بنا لیا ۔ جو کوئی اس عورت کو بچانے کے لئے آگے بڑھتا ، وہ اسے زخمی کردیتا ۔ وہ عورت مسلسل مدد کے لئے پکار رہی تھی ۔ اتنے میں حضرت سَیِّدُنا بشر بن حارث رضي اللہ تعالي عنہ وہاں سے گزرے تو اس شخص کو کندھا مارتے ہوئے آگے نکل گئے ۔ وہ شخص پسینے سے شرابور ہو کر زمین پر گر گیا اور وہ عورت اس کے چنگل سے آزاد ہو کر ایک طرف کو چل دی ۔ اس کے ارد گرد جمع ہونے والے لوگوں نے اس سے پوچھا ،''تجھے کیا ہوا؟''اس نے کہا،''میں نہیں جانتا ! لیکن جب وہ بزرگ گزرنے لگے تو مجھے کندھا مار کر کہا،''اللہ عزوحل دیکھ رہا ہے ۔'' ان کی یہ بات سن کر میں ہیبت زدہ ہوگیا ، نہ جانے وہ کون