اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللہُ وَ رَسُوۡلُہٗ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوا(پ ۶، المائدہ: ۵۵)
ترجَمۂ کنزالایمان:تمہارے دوست نہیں مگر اللہ اور اس کا رسول اور ایمان والے۔
وہاں بھی ولی بمعنی مددگار ہے۔ ’’ اس فرمان سے دو مسئلے معلوم ہوئے ، ایک یہ کہ مصیبت میں ’’ یا علی مدد‘‘ کہنا جائز ہے ، کیونکہ حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المُرتَضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ہر مومن کے مددگار ہیں تا قیامت، دوسرے یہ کہ آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو ’’مولیٰ علی‘‘ کہنا جائز ہے کہ آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ہر مسلمان کے وَلی اور مولیٰ ہیں۔‘‘
(مراٰۃ المناجیح ج۸ص۴۱۷)
دُشمن کا زور بڑھ چلا ہے یا علی مدد!
اب ذوالفِقارِ حیدَری پھر بے نِیام ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
’’یا علی مدد‘‘ کہنے کے دلائل جاننے کیلئے۔۔۔۔۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ’’یا علی مدد ‘‘کہنے کے مسئلے کی وضاحت جاننے اوربَہُت سارے وَساوِس دُور کرنے کے لئے دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی ادارے مکتبۃ المدینہ سے ’’غیرُ اللہ سے مدد مانگنے کا ثُبُوت‘‘نامی VCD ہدیّۃً حاصل کرکے اُسے مُلاحَظہ فرمائیے۔نیز اسی رسالے کے صفحہ56 تا96 پر بھی قراٰن و حدیث کی روشنی میں یہ مسئلہ واضح کیا گیا ہے۔