| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ) |
واما النظر الدقیق فاقول ان کانت القضیۃ موجبۃ کما ارادوا فقد حکموا کلیا علی مالیس بحدث بلا نجس فیجب ان یکون اللانجس مساویا للخارج غیر حدث اواعم منہ مطلقا ونقیض المتساویین متساویان والاعم والاخص مطلقا مثلہما بالتعکیس فیجب ان یکون النجس مساویا للاخارج غیر حدث اواخص منہ مطلقا واللاخارج غیر حدث یصدق بوجہین ان لایکون خارجا اصلا اویکون خارجا حدثا والنجس ان ابقی علی ارسالہ یکون اعم منہ لما بینا فی رسالتنا لمع الاحکام ان قیئ قلیل الخمر والبول لیس بحدث فیصدق علیہ النجس ولا یصدق اللاخارج غیر حدث بل ھو خارج غیر حدث فوجب ان یراد بالنجس النجس بالخروج کما حققنا ثمہ وحینئذ یکون اخص من اللاخارج غیر حدث فان کل نجس بالخروج یصدق علیہ انہ لیس بخارج غیر حدث بل حدث ولا یصدق علی کل لاخارج غیر حدث انہ نجس بالخروج لجواز ان لا یکون خارجا اصلا فاذن تؤل القضیۃ الی قولنا کل خارج من بدن المکلف غیر حدث فھو لانجس بالخروج وعکس نقیضھا کل نجس بالخروج فھو لاخارج منہ غیر حدث واذا کان ذلک کذالک انتفی الوجہ الاول من مصداقی اللاخارج غیر حدث لان النجس بالخروج خارج لاشک فلم یبق الا ان یکون خارجا حدثا والخروج قد اعتبر فی الموضوع فلا حاجۃ الی عادتہ فی المحمول فیخرج فذلکۃ العکس ان کل نجس بالخروج حدث فتبین ان فیہ من این جاء التقیید بالاشیاء الخارجۃ من بدن المکلف فی موضوعہ وکیف خرج السلب الوارد علی ماوعلی الحدث من محمولہ حتی لم یبق فیہ الا لفظۃ حدث فارتفع الا یراد ان معا عن البر جندی والشیخ اسمعیل جمیعا انما بقی الاخذ علی اخذھا سالبۃ الطرفین وکانہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی نظر الی وجود السلب ولو فی المتعلق ولیس فیہ کبیر مشاحۃ ھکذا ینبغی التحقیق واللّٰہ تعالٰی ولی التوفیق ۔
اب رہی نظر دقیق ،فاقول ( تو میں کہتا ہوں ) اگر قضیہ کلیہ ہو جیسا کہ علماء نے مراد لیا تو انہوں نے کلی طور پر ، اس پر جو حدث نہیں ہے لانجس ہونے کا حکم کیا ( اور کہا کہ ہر وہ جو خارج غیر حدث ہے وہ لانجس ہے )تو ضروری ہے کہ لانجس ، خارجِ غیر حدث کا مساوی ہو یا ا س سے اعم مطلق ہو اور متساویین کی نقیضیں متساویین ہوتی ہیں مگر بر عکس ( یعنی اخص اعم مطلق ) تو ضروری ہے کہ لانجس کی نقیض نجس ، خارجِ غیر حدث کی نقیض لاخارج غیر حدث کے مساوی ہو یا اس سے اخص ہو اور لا خارج غیر حدث کا صدق دو طرح کا ہو گا ، ایک یہ کہ سرے سے خارج ہی نہ ہو ، دوسرے یہ کہ خارج ہو مگر حدث ہو اور نجس اگر اپنے اطلاق پر (بلا قید ) باقی رکھا جائے اس سے اعم ہو گا جس کی وجہ ہم نے اپنے رسالہ لمع الاحکام میں بیان کی ہے کہ شراب اور پیشاب کی قے قلیل حدث نہیں تو اس پر نجس صادق ہو گا اور لاخارج غیر حدث صادق نہ ہوگا بلکہ وہ خارج غیر حدث ہے تو ضروری ہے کہ نجس سے نجس بالخروج مراد ہو جیسا کہ وہیں ہم نے تحقیق کی ہے اس صورت میں وہ لا خارج غیر حدث سے اخص ہو گا اس لئے کہ ہر نجس بالخروج پر یہ صادق آئے گا کہ وہ خارج غیر حدث نہیں بلکہ حدث ہے اور ہر لاخارج غیر حدث پر یہ صادق نہ ہو گا کہ وہ نجس بالخروج ہے اس لئے کہ ہو سکتا ہے کہ وہ سرے سے خارج ہی نہ ہو تو اب قضیہ کا مآل یہ ہو گا کہ '' ہر وہ جو بدن مکلف سے خارج غیر حدث ہے تو وہ لانجس بالخروج ہے '' اور اس کا عکسِ نقیض یہ ہو گا : ہر وہ جو نجس بالخروج ہے وہ لاخارج غیر حدث ہے اور یہ جب ایسا ہو گا تو لاخارج غیر حدث کے دو مصداقوں میں سے پہلی صورت منتفی ہو گئی اس لئے کہ نجس بالخروج بلاشبہہ خارج ہے تو صرف یہ صورت رہی کہ خارج حدث ہو اور خروج کا اعتبار موضوع میں ہو چکا ہے تو اسے محمول میں دوبارہ لانے کی کوئی ضرورت نہیں تو خلاصہ عکس یہ ہو گا کہ ہر نجس بالخروج حدث ہے اس سے واضح ہوا کہ اس میں موضوع کے اندر '' بدن مکلف سے نکلنے والی چیزوں '' کی قید کہاں سے آئی اور '' ما '' پر اور'' حدث '' پر وارد ہونے والا سلب اس کے محمول سے کیسے نکل گیا یہاں تک کہ صرف لفظ حدث رہ گیا تو برجندی اور شیخ اسمٰعیل سے دونوں اعتراض ایک ساتھ اُٹھ گئے ، صرف یہ مؤاخذہ رہ گیا کہ اسے سابقۃ الطرفین کیوں مانا ، گویا برجندی رحمۃ اللہ تعالی نے یہ دیکھا کہ سلب موجود ہے اگرچہ متعلق ہی میں ہے اور اس میں کوئی بڑا حرج نہیں اسی طرح تحقیق ہونی چاہئے اور خدائے برتر ہی مالکِ توفیق ہے ۔
وکذلک ان کانت سالبۃ لابد ایضا من الحمل المذکور اذلا شک ان المراد الکلیۃ لان المقصود اعطاء ضابطۃ فقد سلبت النجاسہ کلیۃ عن الخارج غیر حدث فیکون النجس مباینالہ ولا یباینہ الابارادۃ النجس بالخروج اذ لولاھا لکانت اعم لمسألۃ قیئ الخمرا لمذکورۃ لکن مرادھم ھوا لایجاب کماعلمت ۔
یوں ہی اگر سالبہ ہو تو اس میں بھی حمل مذکور ضروری ہے کیونکہ اس میں شک نہیں کہ مراد کلیہ ہے اس لئے کہ مقصود ایک ضابطہ عطا کرنا ہے تو خارج غیر حدث سے نجاست کلی طور پر مسلوب ہوئی تو نجس اس کا مباین ہو گا اور مباین اسی صورت میں ہو گا جب نجس بالخروج مراد ہو اس لئے کہ اگر یہ مراد نہ ہو تو اعم ہوجائے گا جس کا سبب مذکورہ مسئلہ خمر ہے لیکن ان کی مراد ایجاب ہی ہے جیسا کہ آپ کو معلوم ہوا ،
اما قول البرجندی ھذہ الکلیۃ لوجعلت متعلقۃ بمباحث القیئ لکان لہ وجہ ۱؎۔
اب رہا برجندی کا یہ قول کہ اگر یہ کلیہ قے کے مباحث سے متعلق ہو تو اس کی ایک وجہ ہو گی ۔
(۱؎ شرح النقایۃ للبرجندی کتاب الطہارۃ نو لکشور لکھنؤ ۱ /۲۳)
اقول: کیف وانھم جمیعا انما یذکرونھا تلومسائل القیئ وقولہ سلمت عن توھم الدور ۲؎۔
اقول: اس سے متعلق کیسے نہیں جبکہ سبھی حضرات اسے مسائلِ قے کے بعد متصلاً ہی ذکر کرتے ہیں ، قول برجندی : دور کے توہّم سے سلامت رہتا ۔
(۲؎ شرح النقایۃ للبرجندی کتاب الطہارۃ نو لکشور لکھنؤ ۱ /۲۳)
اقول: وجہہ ان اعطاء القضیۃ انما ھو لیکتسب علم عدم النجاسۃ من علم عدم الحدثیۃ و علم عدم الحدثیۃیتوقف علی علم عدم النجاسۃ اذ لو کان نجسا لکان حدثا فیدور وانما قال توھم لان العلم بعدم الحدثیۃ یحصل بتصریح الفقہ فالمراد کلما سمعتموہ من علمائنا انہ لاینقض الطہارۃ فاعلموا انہ لیس بخروجہ نجسا فان لم یکن نجسا دخل من خارج فھو طاھر وھذا ظاھر وصلی اللّٰہ تعالٰی علی اطھر طیب واطیب طاھر وعلی اٰلہ وصحبہ الاطائب الاطاھر والحمدللّٰہ رب العٰلمین فی الاول والاٰخر والباطن والظاھر ولنسم ھذا التحریر المنیر المنفرد بھذا التحریر والتحبیر ''الطراز المعلم فیما ھو حدث من احوال الدم (۱۳۲۴)'' وصلی اللّٰہ تعالٰی علی سیدنا واٰلہٖ وصحبہ وسلم والحمدللّٰہ علی ما علم واللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ضابطہ اسی لئے ہے کہ حدث نہ ہونے کے علم سے نجس نہ ہونے کا علم حاصل ہو جائے اور حدث نہ ہونے کا علم نجس نہ ہونے کے علم پر موقوف ہے اس لئے کہ اگر نجس ہو گا تو حدث ہوگا تو دور ہو گا ، توہّم دور اس لئے کہا کہ حدث نہ ہونے کا علم فقہ کی تصریح سے ہوتا ہے تو مقصد یہ ہے کہ جب ہمارے علماء سے سنو کہ وہ ناقضِ طہارت نہیں تو جان لو کہ وہ اپنے خروج سے نجس نہیں تو اگر وہ ایسا نجس نہیں جو خارج سے داخل ہوا ہو تو وہ طاہر ہے اور یہ ظاہر ہے اور اللہ تعالٰی رحمت نازل فرمائے سب سے پاک طیّب اور سب سے پاکیزہ طاہر پر اور ان کے اطیب و اطہر آل پر اور تمام تر حمد اللہ تعالٰی کے لئے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے ، حمد شروع میں بھی آخر میں بھی اور باطن میں بھی اور ظاہر میں بھی ۔ اور ہم اس تحریر منیر کو جو اس تنقیح و تزیین میں منفرد ہے
الطراز المعلم فیما ھو حدث من الاحوال الدم (۱۳۲۴ھ)
(نشان زدہ نقش خون کے ان احوال کے بیان میں جو حدث ہیں ) سے موسوم کریں اور خدائے برتر کا درود ہو ہمارے آقا ، ان کی آل اور ان کے اصحاب پر اور سلامتی ہو اور خدا کا شکر ہے اس پر جو اس نے تعلیم فرمایا اور خدائے پاک برتر ہی کو خوب علم ہے (ت)
( رسالہ الطراز المعلم فیما ہو حدث من احوال الدم ختم ہوا)