Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
93 - 123
اقول: رحمہ اللّٰہ العلا متین شارحی الدرر والدر لوکانت القضیۃ سالبۃ۔
اقول:  دونوں حضرات شارح درر اور شارح در پر خدا کی رحمت ہو اس کلام پر چند اعتراض ہیں :
فاولا:  فـــ۱ــ لن تظھر کلیتھا بکون مامن صیغ العموم بل وان کان ھناک لفظۃ کل مکان مافان مااوکلایکون فی الموضوع ویرد السلب علی ثبوت المحمول لہ فیفید سلب العموم لاعموم السلب ولذا نصوا ان لیس کل سور السالبۃ الجزئیۃ۔
اول : اگر قضیہ سالبہ ہو تو اس کی کلیت ''ما '' کے صیغہ عموم ہونے سے ہرگز ظاہر نہ ہو گی بلکہ اگر یہاں '' ما ''کی جگہ لفظِ کل ہو اس لئے کہ ما یا کل موضوع میں ہو گا اور سلب موضوع کیلئے محمول کے ثابت ہونے پر وارد ہو گا تو سلب عموم (نفی کلیت ) کا فائدہ دے گا عموم سلب ( کلیت نفی ) کا نہیں اسی لئے لوگوں نے تصریح کی ہے کہ '' لیس کل '' سالبہ جزئیہ کا سور ہے ۔
فـــ۱ــ: تطفل ثالث علی الشیخ النابلسی و ش ۔
وثانیا: فـــ۲ــ علی فرض کلیتہا کیف تنعکس کلیۃ والسوالب انما تنعکس بعکس النقیض جزئیۃ علی دیدن الموجبات فی العکس المستقیم۔
دوم فرض کر لیا جائے کہ وہ کلیہ ہے تو اس کا عکس کلیہ کیسے آئے گا جب کہ سالبات کا عکس نقیض جزئیہ ہوتا ہے جیسے موجبات کا عکس مستوی جزئیہ ہوتا ہے ۔
فـــ۲ــ: تطفل رابع علیہما ۔
وثالثا:فـــ۳ــ اعجب منہ ایراد الموجبۃ فی عکسھا مع انھما رحمہما اللّٰہ تعالٰی قد ذکرا بانفسھما شرط بقاء الکیف ویخطر ببالی واللّٰہ تعالٰی اعلم سقوط لفظۃ المحمول بعد قولہ سالبۃ من قلم احدھما اوقلم الناسخین وکان اصلہ قضیۃ سالبۃ المحمول کلیۃ فاذن تکون موجبۃ وتندفع الایرادت الثلثۃ جمیعا۔
سوم:  اس سے عجیب تر یہ کہ سالبہ مان کر اس کا عکس موجبہ لیا باوجودیکہ دونوں حضرات نے کیف باقی رہنے کی شرط خود ہی ذکر کی ہے میرے دل میں خیال آتا ہے واللہ تعالٰی اعلم کہ لفظ سالبہ کے بعد لفظ محمول دونوں حضرات میں سے کسی کے قلم سے یا نقل کرنے والوں کے قلم سے ساقط ہو گیا ہے ، اصل الفاظ یہ تھے :'' قضیۃ سالبۃ المحمول کلیہ ہے اس صورت میں یہ موجبہ ہو گا اور تینوں اعتراضات دفع ہو جائیں گے ۔
فـــ۳ــ: تطفل خامس علیہما۔
اقول : لکن اذن یرد اولا ماورد علی البرجندی ثانیا وثانیا ینازع فی صدق العکس فرب نجس لیس بحدث کالاعیان النجسۃ الغیر الخارجۃ من بدن مکلف ۔
اقول :لیکن اب اولاً وہ اعتراض وار د ہو گا جو برجندی پر ثانیاً وارد ہوا ، ثانیاً عکس کے صادق ہونے میں نزاع ہو گا کہ بہت سے نجس ، حدث نہیں ہیں جیسے وہ نجس اعیان جو مکلف کے بدن سے نکلنے والے نہیں ۔
ھذا مایحکم بہ جلی النظر وعلیہ فالوجہ۔ مااقول تحتمل القضیۃ الایجاب والسلب الکلیین جمیعا اما الاول فیجعل ماللعموم والسلب الاخیر جزء المحمول والاول جزء متعلق الموضوع لانفسہ لما علمت فتکون موجبۃ کلیۃ معدولۃ المحمول فقط لاسالبۃ الطرفین والمراد بما کما علمت الخارج من بدن المکلف فیکون حاصلھا کل خارج من بدن مکلف غیر حدث فھو لانجس وقولنا غیر حدث حال من خارج ای ماخرج منہ ولم ینقض طھرا والان تنعکس بعکس النقیض موجبۃ کلیۃ قائلۃ ان کل نجس فھو لاخارج غیر حدث ای لیس بالخارج الذی لاینتقض بہ الطہارۃ ای لایجتمع فیہ الوصفان فان خرج نقض ولا بد وان لم ینتقض لم یکن خارجا من بدن المکلف وبالعکس المستوی موجبۃ جزئیۃ بعض اللانجس خارج منہ غیر حدث وھو ایضا صادق قطعا کالدمع والعرق والدم القلیل ۔
یہ وہ ہے جس کا فیصلہ بہ نظر جلی ہوتا ہے اس بنا پر وجہ درست وہ ہے جو میں کہتا ہوں قضیہ موجبہ کلیہ اور سالبہ کلیہ دونوں بن سکتا ہے ، اول اس طرح کہ '' ما '' عموم کے لئے رکھیں ، سلب اخیر کو جز و محمول بنائیں اور سلب اول کو بسبب معلوم خود موضوع کا نہیں بلکہ متعلقِ موضوع کا جز بنائیں تو موجب کلیہ معدولۃ المحمول ہو گا ، سالبۃ الطرفین نہ ہو گا اور جیسا کہ معلوم ہوا '' ما '' سے مراد وہ ہے جو بدن مکلف سے خارج ہو تو حاصلِ قضیہ یہ ہو گا : کل خارج من بدن مکلف غیر حدث ، فہو لا نجس ( ہر وہ جو بدنِ مکلف سے خارج ہو اس حال میں کہ حدث نہ ہو تو وہ لانجس ہے ) لفظ غیر حدث ، لفظ خارج سے حال ہے یعنی جو بدن سے نکلے اس حال میں کہ ناقضِ طہارت نہ ہو اب اس کا عکس نقیض یہ موجبہ کلیہ ہو گا کل نجس فہو لا خارج غیر حدث یعنی ہر نجس لاخارج غیر حدث ہے یعنی جو نجس ہے وہ ایسا خارج نہیں جس سے طہارت نہ ٹوٹے یعنی اس میں دونوں وصف جمع نہ ہونگے ، اگر خارج ہو گا تو ناقض ہونا ضروری ہے اور اگر ناقض نہ ہو گا توبدن مکلف سے خارج نہ ہو گا اور اس کا عکس مستوی یہ موجبہ جزئیہ ہو گا ، بعض اللانجس ، خارج منہ غیر حدث ( بعض لا نجس ، بدن سے اس حال میں خارج ہیں کہ حدث نہیں ) یہ بھی قطعاً صادق ہے جیسے آنسو ، پسینہ ، قلیل خون ۔
واما الثانی: فبتحصیل الطرفین وما لیست للعموم بل نکرۃ بمعنی شیئ دخلت فی حیزالنفی فعمت واذن یکون الحاصل لاشیئ من الخارج منہ غیر حدث نجسا وینعکس بعکس النقیض سالبۃ جزئیۃ لیس بعض اللانجس لاخارجا منہ غیر حدث وبورود السلب علی لاخارج یعود الی الاثبات فیؤل المعنی الی قولنا بعض مالیس نجسا خارج من بدن المکلف غیر حدث وبالمستقیم سالبۃ کلیۃ لاشیئ من النجس خارجا منہ غیر حدث و وجوہ صدقہ ماقدمنا ۔
دوم:  اس طرح کہ طرفین محصلہ ہوں اور '' ما '' عموم کے لئے نہیں بلکہ نکرہ بمعنی شیئ ہو حیز نفی میں داخل ہوا تو عام ہو گیا ، اس صورت میں حاصل یہ ہو گا :
لا شیئ من الخارج منہ غیر حدث ، نجسا
 ( بدن سے نکلنے والی اس حال میں کہ حدث نہ ہو کوئی بھی چیز نجس نہیں ) اس کا عکس نقیض یہ سا لبہ جزئیہ ہو گا ،
لیس بعض اللا نجس ، لا خارجا منہ غیر حدث
 ( بعض لا نجس ، غیر حدث ہونے کی حالت میں لاخارج نہیں ) لا خارج پر سلب وارد ہونے سے اثبات کی طرف لوٹ جائے گا ، تو معنی کا مآل یہ ہو گا :
بعض ما لیس نجسا خارج من بدن المکلف غیر حدث
 ( بعض وہ جو نجس نہیں بدن مکلف سے غیر حدث ہونے کی حالت میں خارج ہے ) اور عکس مستقیم یہ سالبہ کلیہ ہوگا :
لاشی من نجس خارج منہ غیر حدث
 (کوئی نجس ، غیر حدث ہوتے ہوئے بدن سے خارج نہیں ) اور اس کے صدق کی صورتیں وہی ہیں جو ہم نے پہلے بیان کیں ۔
وبالجملۃ حاصل العکسین علی الوجہین متعاکس فحاصل عکس النقیض علی جعلہا موجبۃ ھو حاصل المستوی علی جعلہا سالبۃ وبالعکس ھذا ما تحتملہ العبارۃ اما علماؤنا فانما ارادوا الوجہ الاول اعنی الایجاب ولم یریدوا عکس النقیض بل المستوی لکن لامنطقیا بل عرفیا کما عرفت ۔
بالجملہ دونوں وجہوں پر آنے والے دونوں عکسوں کا حاصل ایک دوسرے کا عکس ہو گا ، موجبہ بنانے پر جو عکس نقیض کا حاصل ہے وہ سالبہ بنانے پر عکس مستوی کا حاصل ہے اور اس کے برعکس ( سالبہ بنانے پر عکس نقیض کا حاصل موجبہ بنانے پر عکس مستوی کا حاصل ہے ) یہ وہ ہے جس کا عبارت میں احتمال ہے لیکن ہمارے علماء نے وجہ اول یعنی ایجاب مراد لیا ہے اور عکس نقیض نہیں بلکہ مستوی ، وہ بھی منطقی نہیں بلکہ عرفی مراد لیا ہے جیسا کہ معلوم ہوا ۔
Flag Counter