( ( لَمْ يَبْقَ نَبِيٌّ إِلَّا أُعْطِيَ سُؤْلَهٗ) ) (1 ) . رَجَعْنَا إِلَی لَفْظِ أَنَسٍ وَأَلْفَاظُ الْبَاقِيْنَ کَمِثْلِهٖ مَعْنًی ، قَالَ : ( ( وَإِنِّی اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِيْ شَفَاعَةً لِأُمَّتِيْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ) ) ( 2) . زَادَ أَبُوْ مُوْسٰی : ( ( جَعَلْتُهَا لِمَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاﷲِ شَيْئاً) ) ( 3) .
( ”ہر نبی کے لیے ایک خاص دعا ہے جو وہ اپنی امّت کے بارے میں کرچکا ہے اور وہ قبول ہوئی ہے ۔ “ یہ حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی روایت کے ا لفاظ ہیں اور حضرت ابوسعید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَروِی حدیث کے الفاظ یوں ہیں کہ ”نہیں ہے کوئی نبی مگر یہ کہ اُسے ایک خاص دعا عطا ہوئی جسے اس نے دنیا میں مانگ لیا ، روایتِ ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے الفاظ ہیں کہ”کوئی نبی نہ بچا جس کو خاص دُعا عطا نہ ہوئی ہو ۔ “ ہم حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ والی حدیث کے الفاظ کی طرف رجوع کرتے ہیں ، باقی راویوں کے الفاظ معنیٰ کے اعتبار سے اُن ہی کی مِثل ہیں ۔ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا : ”میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امّت کی شفاعت کے لیے بچا رکھا ہے ۔ “ ابو موسٰی نے اپنی روایت میں ان الفاظ کا اضافہ کیا کہ میں ہر اُس امّتی کے لیے شفاعت کروں گا جو اس حال پر مَرا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا ۔ ت)
یعنی انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اگرچہ ہزاروں دُعائیں قَبول ہوتی ہیں مگر ایک دُعا انہیں خاص جناب باری تَبَارَک وَ تَعَالٰی سے ملتی ہے کہ جو چاہے مانگ لو بے شک دیا جائے گا ۔ تمام انبیاء آدم سے عیسٰی( عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) تک سب اپنی اپنی وہ دُعا دنیا میں کرچکے اور میں نے آخرت کے لیے اٹھا رکھی ، وہ میری شفاعت ہے میری امّت کے لیے قیامت
________________________________
1 - سنن الکبری للبیھقی ، کتاب الصلاۃ ، باب اینما ادرکتک الصلاۃ ... الخ ، ۲/۶۰۸ ، حدیث : ۴۲۶۶ ۔
2 - مسلم ، کتاب الایمان ، باب اختباء النبی ... الخ ، ص۱۰۸ ، حدیث : ۴۹۴ ۔
3 - مسندامام احمد ، مسند الکوفیین ، حدیث ابی موسی الاشعری ، ۷/۱۷۳ ، حدیث : ۱۹۷۵۶ ۔